امریکا اور یوکرین کے مابین سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات، بامعنی پیش رفت قرار
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور یوکرین کے درمیان ہونے والی بات چیت کو اب تک کی سب سے ’زیادہ مؤثر اور بامعنی‘ مکالمہ قرار دیا ہے۔
دونوں ممالک کے حکام سوئٹزرلینڈ میں ملاقاتیں کر رہے ہیں، جہاں امریکا یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ کے حل کے لیے نئے امن منصوبے کی تشکیل پر کام کر رہا ہے۔
یوکرینی اور روسی حکام کو 28 نکاتی ابتدائی امن مسودہ پیش کیا گیا ہے، جس کا مقصد 2022 کے اوائل سے جاری جنگ کا خاتمہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا یوکرین کے معاملے پر امن مذاکرات کے لیے حقیقی کوشش کرے، چین
اس منصوبے کے مطابق روس کو یوکرین کے اس سے زیادہ علاقے دیے جا سکتے ہیں جو اس کے کنٹرول میں اس وقت موجود ہیں۔
Negotiators are continuing to hammer out a draft after European allies criticized the administration's prior proposal for favoring Russia.
— HuffPost (@HuffPost) November 24, 2025
یوکرین کی فوج پر پابندیاں عائد ہوں گی، اور یوکرین کی نیٹو میں شمولیت مستقل طور پر روکی جائے گی۔
یہ شرائط ماسکو کے دیرینہ مطالبات سے بہت قریب سمجھی جا رہی ہیں۔
مزید پڑھیں:جی20 ممالک کے اجلاس میں روس یوکرین امن منصوبے پر غور، امریکا نے بائیکاٹ کیوں کیا؟
اتوار کی شب جاری کردہ بیان میں وائٹ ہاؤس نے جینیوا میں ہونے والی بات چیت کو ’وسیع، بامقصد، صاف گو اور شراکت داری کی روح میں ہونے والی‘ قرار دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ یوکرینی وفد نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ سیکیورٹی کی ضمانتیں، طویل مدتی اقتصادی ترقی، انفرااسٹرکچر کا تحفظ اور سیاسی خودمختاری سمیت ان کے تمام بنیادی خدشات اس ملاقات میں پوری طرح زیرِ غور آئے۔
یوکرینی نمائندوں نے کہا کہ آج دی گئی وضاحتوں اور ترامیم کی بنیاد پر موجودہ مسودہ ان کے قومی مفاد سے مطابقت رکھتا ہے اور قریبی و طویل مدتی سیکیورٹی کے لیے مؤثر ضمانتی طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔
مزید پڑھیں:امریکا اور یوکرین کے درمیان معدنیات کے معاہدے پر دستخط
مارکو روبیو نے جینیوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے باقی ماندہ مسائل کے حل ہوجانے کا عندیہ دیا۔
’جو نکات ابھی کھلے ہیں وہ ناقابلِ حل نہیں، ہمیں بس مزید وقت کی ضرورت ہے، مجھے یقین ہے کہ ہم اس تک پہنچ جائیں گے۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا یوکرین روس کو علاقہ دینے پر سمجھوتہ کرنے کو تیار ہے، تو روبیو نے تفصیل میں جانے سے گریز کیا۔
مزید پڑھیں: یوکرین اور امریکا کے درمیان ریاض میں نتیجہ خیز مذاکرات ہوئے، یوکرینی وزیردفاع
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدا میں یوکرین کو جمعرات کی ڈیڈ لائن دی تھی، مگر ہفتے کو انہوں نے کہا کہ مجوزہ منصوبہ ان کی ’حتمی پیشکش‘ نہیں ہے۔
روبیو نے کہا کہ وہ جمعرات تک معاہدہ چاہیں گے، “لیکن اصل اہمیت یہ ہے کہ ہم نے نمایاں پیش رفت کر لی ہے۔”
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اپنے پیغام میں تصدیق کی کہ ان کے وفد نے امریکی اور یورپی نمائندوں سے ملاقات کی ہے۔
’یہ اہم ہے کہ امریکی نمائندوں کے ساتھ مکالمہ جاری ہے، اور ایسے اشارے ہیں کہ صدر ٹرمپ کی ٹیم ہماری بات سن رہی ہے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امن جینیوا ڈونلڈ ٹرمپ روس سوئٹزرلینڈ مارکو روبیو وائٹ ہاؤس ولادیمیر زیلنسکی یوکرین
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا جینیوا ڈونلڈ ٹرمپ سوئٹزرلینڈ مارکو روبیو وائٹ ہاؤس ولادیمیر زیلنسکی یوکرین اور یوکرین یوکرین کے کے درمیان روبیو نے کے لیے
پڑھیں:
وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
سٹی 42:وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات،وزیر اعظم نے کہا بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چینی کمپنی فیمسنFAMSUN کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین Jack Chen کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی ۔ وزیراعظم نے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا
وزیر اعظم نے کہا پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے یہ دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔وزیر اعظم نے چینی کمپنی کا پاکستان میں اجناس کے سٹوریج کے مراکز کو اسٹیٹ آف آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اس منصوبے سے ملک میں زراعت کے سیکٹر میں جدید ترین ٹیکنالوجی آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ پاکستان کی افرادی قوت کی ہنر مندی اور تربیت کو ان منصوبوں کا حصہ بنایا جائے۔
جیک چین نے پاکستان میں پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیافیمسن کے چیف ایگزیکٹو نے وزیراعظم سے انکے حالیہ دورہء چین کے دوران اپنی ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں وہ پاکستان کا دورہ کررہے ہیں اور غذائی تحفظ کے حوالے سے قابل عمل منصوبے پر بات چیت کی جارہی ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
جناب جیک چین نے کہا کہ فیمسن پاکستان میں غذائی تحفظ کے حوالے سے بہتر سٹوریج مراکز، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تربیت فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔بریفنگ میں بتایا کہ فیمسن پاکستان میں گرین سائلوز کے قیام کے حوالےسے ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کرے گی سٹوریج سینٹرز کو جدید گرین سائلوز میں بدلا جائے گا ۔فیمسن اور گرین پاکستان انیشئیٹو کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں
ملاقات میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔فیمسن زراعت، جانوروں کی خوراک اور فوڈ پراسیسنگ کے حوالے سے چین کی بڑی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار