پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی نمائندہ برائے خارجہ امور کایا کالاس نے 21 نومبر 2025 کو برسلز میں پاکستان یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے 7ویں دور کی مشترکہ صدارت کی۔

مذاکرات میں 2019 کے اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان کے تحت دوطرفہ تعاون کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں فریقین نے تجارت، ہجرت، انسانی حقوق، سیاسی، اقتصادی و ترقیاتی شعبوں میں روابط مزید بڑھانے پر اتفاق کیا، جبکہ یورپی یونین کی گلوبل گیٹ وے حکمتِ عملی کے تحت شراکت داری مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: اقتصادی تعاون کے لیے پاکستان کے سعودی عرب سے مذاکرات جاری ہیں، وزیر خزانہ

دونوں جانب سے ایراسمس منڈس اور ہورائزن یورپ جیسے تعلیمی و تحقیقی پروگراموں میں تعاون بڑھانے اور خوراک، توانائی تحفظ و موسمیاتی تبدیلی جیسے نئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق ہوا۔

The Deputy Prime Minister and Foreign Minister, Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50, concluded a successful visit to Brussels and has departed for Pakistan following a series of high-level engagements, including the Pakistan-EU Strategic Dialogue and the EU Indo-Pacific… pic.

twitter.com/l7T6NOo7oA

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) November 22, 2025

ملاقات میں پائیدار معاشی ترقی اور تجارت کے فروغ کے لیے تعاون بڑھانے کا اعادہ کیا گیا۔ یورپی یونین کی جانب سے نئے جی ایس پی پلس پروگرام کی تیاری سے آگاہ کیا گیا، جبکہ دونوں فریقین نے انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے فروغ کے عزم کو دہرایا۔

یہ بھی پڑھیے: پاک افغان بے نتیجہ مذاکرات اور طالبان وزرا کے اشتعال انگیز بیانات، جنگ بندی کب تک قائم رہے گی؟

گفتگو کے دوران پاکستان اور یورپی یونین نے اقوام متحدہ کے چارٹر، کثیرالجہتی سفارت کاری، عالمی قوانین اور قواعد پر مبنی نظام کے احترام کے عزم کا اعادہ کیا۔ علاقائی اور عالمی سیکیورٹی امور پر قریبی تعاون کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی۔

فریقین نے تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا۔ یورپی یونین نے یوکرین کی صورتحال پر بریفنگ دی جبکہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر پر اپنا موقف پیش کیا۔ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو کے دوران دونوں نے غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے طے پانے والے جامع منصوبے کے پہلے مرحلے کے معاہدے کا خیرمقدم کیا اور جنگ بندی اور دوریاستی حل پر مکمل عمل درآمد کی ضرورت پر تاکید کی۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور طالبان رجیم مذاکرات کے دروازے بند یا کوئی کھڑکی کھلی ہے؟

وزرا نے پاک افغان تعلقات اور اکتوبر 2025 کی سرحدی کشیدگی کے تناظر میں خطے کے امن و استحکام پر زور دیا۔ دونوں نے افغانستان میں قیامِ امن، دہشت گردی کے خاتمے اور ہمسایہ ممالک کے درمیان مذاکراتی حل کی حمایت کی۔

افغانستان کی بگڑتی معاشی و سماجی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے اقوام متحدہ کی زیر نگرانی ‘دوحہ عمل’ کے مطابق جامع سیاسی عمل کی ضرورت پر زور دیا۔ یورپی یونین نے افغان مہاجرین کی میزبانی پر پاکستان کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ کسی بھی واپسی کو محفوظ، باوقار اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

دونوں فریقین نے اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے اگلے یعنی 8ویں دور کے انعقاد پر اتفاق کیا، جو اسلام آباد میں ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسحاق ڈار دفتر خارجہ ڈآئیلاگ مذاکرات

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسحاق ڈار دفتر خارجہ ڈآئیلاگ مذاکرات یورپی یونین پر اتفاق زور دیا کے لیے

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام