ٹی ٹی پی کے زیر استعمال خطرناک امریکی ہتھیار پہلی بار منظر عام پر
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
یہ ہتھیار پاک فوج اور سیکیورٹی فورسز کی پچھلے کچھ عرصے میں کی جانی والی کارروائیوں کے دوران پکڑے گئے۔ امریکی ہتھیاروں پہ واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ وہ امریکی حکومت کی ملکیت ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے فوجی کارروائیوں کے دوران پکڑے جانے والے فتنۃ الخوارج کے زیر استعمال امریکی ہتھیار پہلی بار منظر عام پر آگئے۔ تفصیلات کے مطابق یہ ہتھیار پاک فوج اور سیکیورٹی فورسز کی پچھلے کچھ عرصے میں کی جانی والی کارروائیوں کے دوران پکڑے گئے۔ امریکی ہتھیاروں پہ واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ وہ امریکی حکومت کی ملکیت ہیں۔ امریکی فوج اور نیٹو، انخلا سے پہلے امریکی ہتھیار افغانستان چھوڑ گئی تھی۔ ان امریکی ہتھیاروں کو افغان طالبان نے پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کے لیے فتنۃ الخوارج کے حوالے کر دیا۔ چھوڑے گئے امریکی ہتھیاروں سے فتنۃ الخوارج بہت فاصلے سے پاک افواج کو رات کے وقت بھی نشانہ بنا سکتی ہے، ان امریکی ہتھیاروں میں اسٹیل ہیڈ گولیاں بھی شامل ہیں جو کہ بلٹ پروف جیکٹ کے اندر سے بھی گزر سکتی ہیں۔
اس کے علاوہ پکڑے جانے والے مواد میں امریکی فوج اور نیٹو کے زیر استعمال اعلیٰ معیار کا دھماکا خیز مواد اور تاریں بھی شامل ہیں۔ دکھائے جانے والے ہتھیاروں میں ایم 4، ایم 16 اور دیگر خود کار جدید اسلحہ شامل ہے، فتنۃ الخوارج سے نائٹ ویژن گاگلز اور دیگر جدید آلات بھی برآمد کیے گئے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خوارج یہ اسلحہ پاکستان میں قانون نافذ کرنے والوں اداروں کے خلاف استعمال کر رہے ہیں، پکڑے جانے والے ہتھیاروں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکی ہتھیاروں امریکی ہتھیار فتنۃ الخوارج جانے والے فوج اور
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔