گورنر سندھ کے آرڈیننس کے خلاف درخواست، فریقین کو نوٹس جاری
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
فائل فوٹو
سندھ ہائی کورٹ میں آئینی بینچز سے متعلق گورنر سندھ کے آرڈیننس کے خلاف ایک اور درخواست دائر ہوئی جس پر عدالت نے فریقین کو 27 نومبر کے لیے نوٹس جاری کردیے۔
سندھ ہائیکورٹ نے آئندہ سماعت پر فریقین سے جواب طلب کرلیا ہے۔
سندھ ہائیکورٹ نے آصف وحید کوریجو ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کو اسی نوعیت کی دیگر درخواستوں کے ساتھ منسلک کردیا۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ اور آئینی بینچز کے نیا روسٹر.
وکیل درخواست گزار ابراہیم سیف الدین ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ گورنر سندھ کا جاری کردہ آرڈیننس عدلیہ کی آزادی کو متاثر کر رہا ہے۔ آرڈیننس کے سیکشن 6 میں ججز کو تعیناتی تسلیم کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ تعیناتی تسلیم نا کرنا مس کنڈکٹ قرار دیا گیا ہے، ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ طے کرنے کا اختیار سپریم جوڈیشل کونسل کا ہے۔ کوڈ آف کنڈکٹ کا تعین صوبائی اسمبلی یا گورنر نہیں کرسکتے۔
وکیل درخواست گزار نے مزید کہا کہ عدلیہ کی آزادی آئین کی بنیاد ہے، عدلیہ کی آزادی پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔