“شوہر کو دوسری شادی کا مشورہ دیا تو وہ خوش ہونے کے بجائے پریشان ہوگئے” : منزہ عارف
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
پاکستانی ڈراموں کی معروف اداکارہ منزہ عارف نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے ہلکے پھلکے انداز میں اپنے شوہر کو دوسری شادی کی اجازت دینے کی بات کی تو شوہر حیران اور پریشان ہوگئے۔ حالیہ انٹرویو میں انہوں نے اپنے شوبز کیریئر اور نجی زندگی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ شوبز میں آنے سے قبل وہ لاہور میں بطور ماہرِ تعلیم کام کر رہی تھیں، بعدازاں ڈرامہ انڈسٹری میں قدم رکھا اور اب کراچی میں پروجیکٹس کے باعث طویل عرصے سے مقیم ہیں۔ منزہ عارف نے بتایا کہ کراچی میں لمبے قیام کے دوران انہیں شوہر کی فکر رہتی تھی، جبکہ ان کے شوہر ہمیشہ انہیں سپورٹ کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شوہر انہیں خود ایئرپورٹ چھوڑنے اور لینے آتے تھے اور ان کی کامیابی پر فخر کرتے ہیں۔ اداکارہ نے بتایا کہ ایک بار مذاق میں انہوں نے شوہر سے کہا کہ اگر وہ چاہیں تو دوسری شادی کر سکتے ہیں تاکہ وہ تنہائی محسوس نہ کریں منزہ کے مطابق: “مجھے لگا وہ خوش ہوں گے، لیکن وہ الٹا پریشان ہوگئے اور پوچھنے لگے کہ تم ایسا مشورہ کیوں دے رہی ہو؟ کیا تمہارے ذہن میں کچھ اور ہے؟” اداکارہ نے ہنستے ہوئے کہا کہ یہ صرف میاں بیوی کے درمیان ایک مزاح تھا جسے شوہر نے کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا۔ انہوں نے اپنے شوہر کو مکمل “گرین فلیگ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہر قدم پر ان کا ساتھ دیتے ہیں اور مضبوط سپورٹ سسٹم ہیں
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔