طلال چوہدری کے بھائی کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روک دیا گیا، چیف الیکشن کمشنر کے سخت ریمارکس
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر طلال چوہدری کے بھائی بلال چوہدری کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روک دیا۔
چیف الیکشن کمشنر نے واضح کیا کہ بلال چوہدری کو نااہل نہیں کیا جا رہا، صرف کامیابی کا نوٹیفکیشن روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ڈیرہ غازی خان ضمنی انتخابات میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر مشیر حذیفہ رحمان نے الیکشن کمیشن سے غیر مشروط معافی مانگ لی۔
چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں چار رکنی بنچ نے سماعت کی دوران سماعت کمیشن حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ طلال چوہدری واضح طور پر ضابطہ اخلاق کے مرتکب ہوئے ہیں۔
وزیر مملکت کسی انتخابی مہم میں حصہ لینے کے مجاز نہیں۔ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیئے کہ وزیر مملکت طلال چوہدری نے خلاف ورزی کی اور پیش ہونا بھی گوارا نہیں کیا۔
طلال چوہدری کے وکیل نے بتایا کہ موکل کمیشن کے سامنے پیش ہوں گے۔ جس کے بعد الیکشن کمیشن نے انہیں حاضری سے استثنیٰ دے دیا۔چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں چار رکنی کمیشن نے ڈیرہ غازی خان ضمنی انتخابات میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت چیف الیکشن کمشنر نے حذیفہ رحمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ وزارت رکھنا چاہتے ہیں، حذیفہ رحمان نے جواب دیا کہ میں ہمیشہ قانون کا پابند رہتا ہوں۔اگرانتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہوئی توغیرمشروط معافی مانگتا ہوں، میں نے کارنر میٹنگ میں نہیں، میوزیکل نائٹ میں شرکت اور تقریر کی۔
چیف الیکشن کمشنر نے ہدایت کی کہ کیس کی دستاویزات حذیفہ رحمان کے سپرد کی جائیں۔حذیفہ رحمان باضابطہ جواب جمع کرائیں۔الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی چیف الیکشن کمشنر نے الیکشن کمیشن طلال چوہدری حذیفہ رحمان
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔