کوئٹہ میں ہر گزرتے دن کے ساتھ چینی کا بحران شدت اختیار کرتا جارہا ہے، جہاں چند ہی دن قبل چینی 195 روپے فی کلو میں دستیاب تھی وہیں یک دم 35 روپے اضافے کے بعد چینی کی فی کلو قیمت 230 روپے تک جا پہنچی ہے۔ قیمتوں میں یہ اچانک اضافہ نہ صرف شہریوں میں بے چینی پیدا کر رہا ہے بلکہ ریٹیلرز بھی شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔
مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ رواں ہفتے کے آغاز میں چینی کی فی کلو قیمت میں 35 روپے تک کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس نے ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھا دیے ہیں۔

وی نیوز سے بات کرتے ہوئے کوئٹہ کے مضافاتی علاقے ہزارہ ٹاؤن میں ریٹیلر اسامہ یوسف زئی نے بتایا کہ بازار میں چینی کی قیمت میں گزشتہ کئی دنوں سے ہوش ربا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ان کے مطابق ہول سیل مارکیٹ میں چینی 200 سے 210 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہی ہے اور دکانوں تک پہنچتے پہنچتے ٹرانسپورٹ سمیت دیگر اخراجات جوڑ کر ریٹیل سطح پر یہی قیمت 230 روپے تک جا پہنچتی ہے۔

مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟

اسامہ یوسفزئی نے بتایا کہ پہلے لوگ ہفتے میں دو سے تین کلو چینی خریدتے تھے لیکن اب قیمتیں اتنی بڑھ گئی ہیں کہ زیادہ تر خریدار ایک کلو چینی لے کر واپس جا رہے ہیں۔ بازار میں چینی کی دستیابی بھی کم ہو گئی ہے اور کچھ عناصر مبینہ طور پر اسے غیر قانونی طور پر افغانستان سمگل کر رہے ہیں، جس سے مقامی مارکیٹ میں قلت مزید بڑھ گئی ہے۔

اسی حوالے سے ایک اور ریٹیلر حاجی امداد نے وی نیوز کو بتایا کہ شہر میں اعلیٰ معیار کی چینی 230 روپےجبکہ کم درجے کی چینی 220 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق اگلے چند دنوں میں قیمت میں مزید 5 سے 10 روپے کا اضافہ بھی متوقع ہے۔

حاجی امداد نے کہا کہ اوپن مارکیٹ میں چینی کی قلت ہو رہی ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں ذخیرہ اندوزی کی جا رہی ہے اور کچھ کے مطابق چینی سرحد پار اسمگل ہو رہی ہے، لیکن حقیقت کیا ہے اسکی کوئی تصدیق نہیں کر پارہا۔

مزید پڑھیں: چینی کی زائد قیمت فروخت پر صوبوں میں جرمانے اور گرفتاریاں، وزارت فوڈ سیکورٹی کی سینیٹ میں رپورٹ

شہری بھی اس صورتحال پر شدید برہمی کا اظہار کر رہے ہیں۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول کمیٹیاں مکمل طور پر غائب نظر آ رہی ہیں، جبکہ گراں فروشوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی۔ ایک شہری نے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ہفتے چینی 195 روپے میں خریدی تھی، اور آج اچانک 230 روپے مانگ رہے ہیں۔ نہ کوئی چھاپہ، نہ کوئی چیک اینڈ بیلنس عام آدمی کہاں جائے؟

دوسری جانب بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ اشیائے خوردونوش کی قیمتیں ایک مخصوص پلاننگ کے تحت بڑھائی جاتی ہیں، اور جب مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا ہو جائے تو گراں فروش من مانی قیمتیں وصول کرتے ہیں۔

کوئٹہ میں چینی کی قیمتوں میں اضافہ کسی نئی بات نہیں لیکن اس بار معاملہ زیادہ سنگین دکھائی دے رہا ہے کیونکہ صرف ایک ہفتے میں قیمتوں نے ریکارڈ سطح کو چھو لیا ہے۔

مزید پڑھیں: چینی اخبار ’پیپلز ڈیلی‘ نے ریاض میں علاقائی دفتر کھول لیا

مارکیٹ ذرائع کے مطابق اگر ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس نے فوری ایکشن نہ لیا تو چینی کی قیمت 240 سے 250 روپے فی کلو تک بھی جا سکتی ہے۔

پریشان حال شہریوں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر مارکیٹ کا جائزہ لیا جائے، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور چینی کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ میں لائی جائیں۔

شہر کی مارکیٹوں میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور انتظامیہ کی عدم موجودگی نے شہریوں کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کوئٹہ میں قیمتیں کنٹرول کرنے والا کوئی نہیں رہا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ اس بڑھتے ہوئے بحران پر کب اور کیسے قابو پاتی ہے یا پھر عوام کو مہنگائی کی اس نئی لہر کا بوجھ مزید برداشت کرنا پڑے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسامہ یوسفزئی چینی غالب نہاد کوئٹہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسامہ یوسفزئی چینی غالب نہاد کوئٹہ ضلعی انتظامیہ چینی کی قیمت روپے فی کلو میں چینی کی مارکیٹ میں ہو رہی ہے کے مطابق رہے ہیں رہا ہے

پڑھیں:

حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا

اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 23 جولائی 2026ء ) وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان کردیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے۔ پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ جبکہ ڈیزل کی قیمت فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 62 پیسے اضافہ کر دیا گیا ہے، ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی۔

(جاری ہے)

نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 کے بعد ایک دن کیلئے ہوگا۔ یاد رہے وفاقی کابینہ نے پیٹرولیم مصنوعات کے لیے روزانہ قیمتوں کے تعین کا نیا نظام منظور کر لیا جس کے تحت اوگرا اب پیٹرول اور ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمتیں روزانہ جاری کرے گا۔ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں گزشتہ سات کاروباری دن کی اوسط عالمی قیمت کے مطابق ہوں گی، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ کے حساب سے کیا جائے گا۔ قیمتوں کے اعلان کے لیے وزیراعظم یا وفاقی حکومت کی پیشگی منظوری درکار نہیں ہوگی جبکہ اوگرا بغیر وزیراعظم یا حکومت کی منظوری کے قیمتوں کا اعلان کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • پاکستان میں سریے کی قیمت آج 23 جولائی 2026، تازہ ریٹس جاری
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مہنگے
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار