حجت الاسلام علی رضائی تہَرانی نے مفسرِ کبیرِ قرآن اور تفسیر المیزان کے مصنف علامہ سید محمد حسین طباطبائیؒ  کے چوالیسویں یومِ وفات کی مناسبت سے دارالقرآن الکریم حرم رضوی میں ہونے والی تقریب میں قرآن کے مقام اور اس عظیم مفسر کے تفسیری منهج پر تفصیلی گفتگو کی۔ اسلام ٹائمز۔ مفسر قرآن کریم علامہ طباطبائیؒ کی یاد میں آستانِ قدسِ رضوی کے علمی و ثقافتی ادارے کے زیراہتمام محفل انس با قرآن منعقد ہوئی۔ ممتاز علمی شخصیات اور زائرانِ امامِ روف علیہ السلام حرمِ مطہر امام رضا علیہ‌السلام میں منعقد ہونیوالی نورانی محفل میں شرکت کی۔ حجت الاسلام علی رضائی تہَرانی نے مفسرِ کبیرِ قرآن اور تفسیر المیزان کے مصنف علامہ سید محمد حسین طباطبائیؒ  کے چوالیسویں یومِ وفات کی مناسبت سے دارالقرآن الکریم حرم رضوی میں ہونے والی تقریب میں قرآن کے مقام اور اس عظیم مفسر کے تفسیری منهج پر تفصیلی گفتگو کی۔

انہوں نے ابتدا میں قرآن مجید کی عظمت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قرآن آسمان سے بشریت کی جانب سے آویزاں ایک رسی اور اسلام کا آئینِ اساسی ہے، اس کی آیات ایسی عظمت رکھتی ہیں کہ اگر یہ کلام کسی پہاڑ پر نازل ہو تو وہ پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائے، معصومینؑ کی روایات کے مطابق قرآن میں اللہ کی تجلی موجود ہے، اور اگر ہم اس حقیقت کو محسوس نہیں کر پاتے تو یہ ہماری فہم کی کمزوری ہے، قرآن کے معانی و مفاہیم تک صحیح رسائی کیلئے تدبر، تفکر اور درست تفسیری طریقہ ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلام کے تمام فرقوں میں اس بات پر اجماع ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے، لہٰذا قرآن کی بہترین تفسیر وہ ہے جو قرآن کے ذریعے قرآن کی تفسیر کی گئی ہو اور علامہ طباطبائیؒ عصرِ حاضر میں اس طرزِ تفسیر کے بانی ہیں، علامہ طباطبائیؒ نے اس روش پر ایسی بلند پایہ تفسیر لکھی ہے جس کا کوئی بدل نہیں، اگرچہ اس انداز پر دیگر تفاسیر بھی لکھی گئی ہیں، لیکن المیزان آج بھی ان سب میں درخشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ علامہ نے قرآن کو قرآن سے تفسیر کرنے کے بعد، آیات کو معصومینؑ کی معتبر احادیث کی روشنی میں بھی بیان کیا، جس نے المیزان کو ایک بے مثال اور دائم اثر تفسیر بنا دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ تفسیر میں علامہ نے صرف مستند روایات کو نقل کیا ہے، ایک بھی ضعیف روایت شامل نہیں، اگر ہم شیعہ و سنی معاصر علماء میں سے دس ایسی شخصیات کا انتخاب کرنا چاہیں جن کا علمی مقام آسمان کی بلندیوں کو چھوتا ہو، تو یقینی طور پر ان میں ایک عظیم نام علامہ طباطبائیؒ کا ہوگا، علامہ طباطبائیؒ فلسفہ، عملی عرفان، تفسیر، کلام، فقہ اور اصول ہر میدان میں اعلیٰ ترین مقام رکھتے تھے، اپنی عظیم علمی حیثیت کے باوجود وہ نہایت متواضع تھے، جس کی وجہ سے ان کے شاگرد ان سے بے پناہ محبت کرتے تھے اور معاشرے اور خاندان میں بھی ان کی مقبولیت بے مثال تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: علامہ طباطبائی قرآن کے

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی