فیروز خان ہر ماہ بچوں کی کفالت کے لیے دو لاکھ روپے ادا کرتے ہیں
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
اداکار فیروز خان کے بچوں کی کفالت کو لے کر نیا تنازع سامنے آیا ہے۔ سابق اہلیہ علیزے سلطان نے سوشل میڈیا پر بچوں کے سردیوں کے کپڑوں اور اسکول یونیفارم کے حوالے سے پوسٹ کی، جس کے بعد فیروز خان کی موجودہ اہلیہ ڈاکٹر زینب نے بھی ردعمل دیا۔
اب فیروز خان کی بہن تابندہ ملک نے اس معاملے پر تفصیلات سامنے رکھیں اور بتایا کہ سلطان اور فاطمہ کی کفالت کے لیے علیزے سلطان کو ہر ماہ دو لاکھ روپے ادا کیے جاتے ہیں، جس میں بچوں کی اسکول فیس اور دیگر ضروری اخراجات شامل ہیں۔ تابندہ کے مطابق یہ رقم عدالت میں ریکارڈ بھی ہے۔
سوشل میڈیا صارفین نے تابندہ ملک کی اس وضاحت پر تنقید کی، کہتے ہوئے کہ موجودہ مہنگائی کے دور میں دو لاکھ روپے کافی نہیں اور بچوں کو بہتر معیارِ زندگی دینا چاہیے۔ علیزے سلطان کی جانب سے اب تک اس معاملے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فیروز خان
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔