پاکستان میں تمباکو سے سالانہ ڈیڑھ لاکھ اموات؛ 700 ارب روپے کا نقصان
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان میں تمباکو سے وابستہ صحت اور معاشی بحران کے حوالے سے ایک نئی اور تشویشناک رپورٹ سامنے آئی ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صرف ایک سال کے دوران ملک کو اس خطرناک عادت کے باعث 700 ارب روپے سے زائد کا مالی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) کی جامع رپورٹ میں حکومت سے فوری اور مؤثر اصلاحات کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے تاکہ آنے والے برسوں میں اس نقصان کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تمباکو سے متعلق موجودہ قوانین انتہائی کمزور اور غیر مؤثر ہو چکے ہیں، جن کے باعث ملک میں تمباکو نوشی کی وبا مزید گہری جڑیں پکڑ چکی ہے۔
پائیڈ کے مطابق اس مہلک عادت کے نتیجے میں ہر سال کم از کم ایک لاکھ 64 ہزار پاکستانی اپنی جانیں گنوا دیتے ہیں ۔ ادارے نے واضح کیا ہے کہ گزشتہ 10 برس میں تمباکو کے سبب ہونے والا معاشی نقصان 31 فیصد تک بڑھ چکا ہے، جو تشویش کی شدت کو دوگنا کر دیتا ہے۔
رپورٹ کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ملک میں انتہائی سستے سگریٹ کی دستیابی نے نوجوانوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ کم قیمت ہونے کے سبب نوعمر اور کم آمدنی والے افراد تیزی سے اس جانب راغب ہو رہے ہیں، جس کے باعث صحت پر پڑنے والا طویل المدتی اثر اور اس کے نتیجے میں معاشی بوجھ خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے۔
مزید برآں اسموک لیس یعنی بغیر دھویں والے تمباکو کی مصنوعات پر مؤثر نگرانی نہیں ہو پا رہی، جس سے یہ آگے چل کر ایک الگ بحران کی شکل اختیار کر رہی ہیں۔
پائیڈ نے اپنی رپورٹ میں اسموک لیس تمباکو اور نئی تمباکو مصنوعات کو فوری طور پر ٹیکس کے دائرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اگر ان مصنوعات پر ٹیکس کا نظام بہتر بنایا جائے تو نہ صرف استعمال میں کمی آئے گی بلکہ قومی خزانے کو بھی خاطر خواہ سہارا ملے گا۔
رپورٹ میں مزید یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ غیرقانونی سگریٹ کی تجارت قومی مارکیٹ کے تقریباً ایک تہائی حصے پر قبضہ کیے ہوئے ہے، جو حکومتی ریونیو کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔
ادارے نے تجویز پیش کی ہے کہ اگر حکومت واقعی تمباکو سے نجات کے لیے سنجیدہ ہے تو اسے فوری طور پر ہیلپ لائنز، تھراپی مراکز اور تمباکو چھوڑنے کی خصوصی سہولتیں قائم کرنی ہوں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ مؤثر پالیسی نفاذ کو یقینی بنانا ازحد ضروری ہے، ورنہ نہ صرف قیمتی جانوں کا زیاں جاری رہے گا بلکہ مالی خسارہ بھی وقت کے ساتھ کئی گنا بڑھ جائے گا۔
پائیڈ نے خبردار کیا ہے کہ تاخیر کی صورت میں ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میں تمباکو رپورٹ میں تمباکو سے گیا ہے کیا ہے
پڑھیں:
سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
کراچی: پاکستان میں سونے کی قیمت میں اضافہ مسلسل دوسرے روز بھی جاری رہا، جس کے بعد مقامی صرافہ بازاروں میں فی تولہ سونا 4 ہزار 600 روپے مہنگا ہو گیا۔
آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق اضافے کے بعد 24 قیراط فی تولہ سونے کی نئی قیمت 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے مقرر کی گئی ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 3 ہزار 944 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 3 لاکھ 71 ہزار 944 روپے ہو گئی۔
دوسری جانب چاندی کی قیمت میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ فی تولہ چاندی 7 روپے اضافے کے بعد 6 ہزار 403 روپے جبکہ 10 گرام چاندی 6 روپے مہنگی ہو کر 5 ہزار 489 روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا تھا، جب فی تولہ سونا 4 ہزار 700 روپے مہنگا ہو کر 4 لاکھ 29 ہزار 236 روپے تک پہنچ گیا تھا، جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 4 ہزار 29 روپے اضافے کے بعد 3 لاکھ 68 ہزار روپے ہوگئی تھی۔
عالمی مارکیٹ میں بھی قیمتی دھاتوں کے نرخ بڑھنے کا رجحان برقرار ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 46 ڈالر اضافے کے بعد 4 ہزار 114 ڈالر ریکارڈ کی گئی، جبکہ چاندی کی عالمی قیمت 0.07 ڈالر اضافے سے 59.24 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں اضافے، امریکی ڈالر کی نقل و حرکت، شرح سود اور جغرافیائی کشیدگی جیسے عوامل مقامی مارکیٹ پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں، جس کے باعث پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔