سیاست، روحانیت اور اسٹیبلشمنٹ کا متنازع امتزاج، عمران خان اور بشریٰ بی بی پر عالمی رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
ایک نئی غیر ملکی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان نے پی ٹی آئی کو بدعنوانی کے خلاف ایک عوامی پلیٹ فارم کے طور پر پیش کیا اور اسلامی فلاحی ریاست کا وعدہ کیا، تاہم بشریٰ بی بی سے تیسری شادی نے ان کی ذاتی اور سیاسی زندگی دونوں رخ بدل دیے۔
یہ بھی پڑھیں:بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی تنہائی میں ملاقات کے لیے درخواست کی سماعت
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی، جو پنجاب سے تعلق رکھنے والی صوفیانہ رجحان کی روحانی شخصیت ہیں، نے عمران خان کے روزمرہ فیصلوں سے لے کر سرکاری تعیناتیوں تک وسیع اثر و رسوخ استعمال کیا۔
روحانی اثر، رسومات اور غیر معمولی دعوےرپورٹ کے مطابق عمران خان کی زندگی اور حکومتی فیصلوں میں خوابوں، چہروں کے تجزیے (فیس ریڈنگ) اور روحانی رسومات کو حد سے زیادہ اہمیت دی جاتی رہی۔
سابق ملازمین نے دعویٰ کیا کہ بنی گالا میں گوشت، جانوروں کے سروں اور جگر کے ذریعے بدروحوں سے نجات جیسے اعمال کیے جاتے تھے، جس سے قومی قیادت کے گرد توہم پرستی کا ماحول اجاگر ہوتا ہے۔
بشریٰ بی بی کا مبینہ اثر و رسوخ اور بنی گالا میں خوفرپورٹ میں ایک سابق کابینہ رکن کے حوالے سے کہا گیا کہ حکومتی معاملات میں بشریٰ بی بی کی ’مکمل مداخلت‘ تھی۔
دعویٰ کیا گیا کہ عمران خان کے ساتھ ملاقاتیں، سرکاری امور اور یہاں تک کہ پروازوں کے وقت بھی بشریٰ بی بی کی منظوری سے طے پاتے تھے، جس کی وجہ سے اندرونی حلقوں میں خوف اور غیر یقینی کیفیت پیدا ہوتی تھی۔
پی ٹی آئی کے اپنے حلقوں کی شکایات اور بلیک میجک کے الزاماترپورٹ میں جہانگیر ترین سمیت پارٹی کے اہم حمایتیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بعض لوگوں نے ’کالے جادو‘ کے استعمال پر تشویش ظاہر کی، اور مبینہ طور پر انہی خدشات کے بعد بعض وفادار شخصیات کو الگ کر دیا گیا۔
اس اقدام سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ پارٹی فیصلے کسی باقاعدہ ادارہ جاتی نظام کے تحت نہیں بلکہ ذاتی پسند یا ناپسند کے مطابق ہوتے رہے۔
فوجی اسٹیبلشمنٹ کا کردار اور اندرونی روابط کا دعویٰرپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2018 میں عمران خان کی کامیابی فوج اور آئی ایس آئی کی مدد سے ممکن ہوئی، جو PTI کے ’احتسابی انقلابی‘ نعرے سے متصادم ہے۔
کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق آئی ایس آئی کے بعض عناصر مبینہ طور پر بشریٰ بی بی سے وابستہ پیران کے ذریعے معلومات عمران خان تک پہنچاتے رہے، جس سے ان کے روحانی یقین کو تقویت ملتی رہی۔
عاصم منیر کی برطرفی اور مفاداتی بیانیہرپورٹ میں دعویٰ ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو اس وقت ہٹایا گیا جب انہوں نے مبینہ طور پر بشریٰ بی بی کے گرد کرپشن کی نشاندہی کی۔ اس اقدام کو عمران خان کے ’اصولوں پر مبنی سیاست‘ کے دعوے سے متصادم قرار دیا گیا ہے۔
وعدے، ناکامیاں اور قانونی نتائجرپورٹ کے مطابق عمران خان اپنے بڑے انتخابی وعدے، لاکھوں گھروں اور ملازمتوں، پر عمل درآمد نہ کر سکے اور بعدازاں خود اعتراف کیا کہ ایک مدت میں ایسا ممکن نہ تھا۔
معاشی بحران، سیاسی محاذ آرائی اور اسٹیبلشمنٹ سے تنازع کے بعد وہ عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے باہر کیے گئے۔
بعد ازاں توشہ خانہ تحائف اور القادر یونیورسٹی کیس سمیت متعدد مقدمات میں عمران خان اور بشریٰ بی بی دونوں کو جیل بھیج دیا گیا، جس سے عمران خان کی ’صاف ہاتھ‘ والی سیاسی شناخت کو شدید دھچکا لگا۔
عمران خان کی مقبولیت اور تنقیدی بیانیہاگرچہ عمران خان پر پابندیوں اور میڈیا خاموشی کے باوجود وہ عوامی سطح پر اب بھی ’اخلاقی اتھارٹی‘ کے طور پر سمجھے جاتے ہیں، مگر ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ سادہ لوح ثابت ہوئے، غلط لوگوں کے اثر میں آئے، روحانی اور غیر رسمی کرداروں پر حد سے زیادہ بھروسہ کیا اور اسی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر اقتدار حاصل کیا جس کے خلاف آج لڑ رہے ہیں۔
سیاسی تحریک، شخصی مرکزیت اور تشدد کا تاثررپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی ایک باقاعدہ ادارہ جاتی پارٹی کے بجائے ایک شخصیت،عمران خان کے گرد گھومتی رہی۔ ان کی گرفتاری کے بعد پارٹی کارکنوں کی جانب سے بعض عسکری اور تاریخی تنصیبات پر حملوں نے PTI کے ’اداروں کے محافظ‘ بیانیے کو کمزور کیا۔
یہ رپورٹ مجموعی طور پر عمران خان اور بشریٰ بی بی کو ایک ایسے جوڑے کے طور پر پیش کرتی ہے جنہوں نے سیاست، روحانیت اور طاقت کے غیر رسمی ذرائع کو یکجا کر کے ایک متنازع حکومتی ماڈل تشکیل دیا، جو بالآخر انہی پر الٹ آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹیبلشمنٹ بشریٰ بی بی جنرل عاصم منیر عمران خان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹیبلشمنٹ عمران خان کے عمران خان کی رپورٹ میں پی ٹی آئی گیا ہے کہ اور بشری کے مطابق کہا گیا
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔