بھارت میں موموز کا اسٹال جس کی کمائی نے سب کو چونکا دیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
بھارت میں انسٹاگرام کے ایک تخلیق کار نے ایک ایسی ویڈیو شیئر کی ہے جس نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی—موضوع ہے ایک عام سا موموز اسٹال جس کی ماہانہ کمائی مبینہ طور پر ایک کروڑ روپے تک پہنچتی ہے۔
کیسی پریرا نامی کانٹینٹ کریئیٹر بینگلورو کے اس مشہور اسٹال پر گئے، وہاں کچھ وقت کام کیا اور پورا تجربہ ریکارڈ کرکے شیئر کر دیا۔ ویڈیو میں وہ گاہکوں کو خود موموز سرو کرتے دکھائی دیے۔
ان کے مطابق اسٹال کے پہلے ہی گھنٹے میں وہ 118 پلیٹیں فروخت کر چکے تھے۔ کچھ دیر کے مختصر وقفے کے بعد جب وہ واپس آئے تو ان کے انتظار میں مزید گاہک لائن بنا کر کھڑے تھے۔
یہ موموز اسٹال شام 5 بجے سے رات 10 بجے تک کھلتا ہے، اور ایک پلیٹ کی قیمت 110 بھارتی روپے ہے۔ کیسی پریرا کے مطابق اس دن اسٹال نے تقریباً 950 پلیٹیں بیچیں، یعنی مجموعی فروخت 1 لاکھ 4 ہزار 500 بھارتی روپے رہی—جو پاکستانی روپے میں ساڑھے 3 لاکھ سے بھی زیادہ بنتے ہیں۔
انہوں نے اندازہ لگایا کہ اگر روزانہ کی فروخت یہی رہے تو اسٹال کی ماہانہ آمدنی تقریباً 31 لاکھ 35 ہزار بھارتی روپے (یعنی تقریباً 1 کروڑ پاکستانی روپے) تک پہنچ سکتی ہے۔
تاہم، ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بہت سے لوگوں نے کمنٹس میں اس اندازے کو مبالغہ آمیز قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اخراجات نکالنے کے بعد اصل منافع اتنا زیادہ نہیں ہو سکتا۔
پھر بھی، یہ ویڈیو اس بات کی مثال ضرور بن گئی ہے کہ بھارت جیسے بڑے شہروں میں ایک چھوٹا سا فوڈ اسٹال بھی غیر معمولی کمائی کرسکتا ہے—اگر ذائقہ اچھا ہو اور گاہکوں کی لائنیں لگی رہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔