Jasarat News:
2026-07-24@05:04:16 GMT

ترمیمی سیاست کے ماہر؛ ایم کیو ایم اور کراچی کا دائمی المیہ

اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251116-03-4

 

میر بابر مشتاق

کراچی… روشنیوں کا شہر، محنت کشوں کا مسکن، اور پاکستان کی معاشی شہ رگ، مگر افسوس! سیاسی مفادات کی بندر بانٹ نے اس شہر کو اندھیروں، خوف اور محرومیوں کے گڑھ میں بدل دیا ہے۔ اس شہر کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ نہیں کہ اسے وفاق نے نظر انداز کیا، بلکہ یہ ہے کہ اس کے اپنے نمائندے بار بار اسے بیچ کر، اپنی جیبیں بھرتے رہے۔ ایم کیو ایم؛ وہ جماعت جو کبھی مہاجروں کی شناخت اور امید کی علامت سمجھی جاتی تھی آج سیاسی موقع پرستی، وزارتوں کی بھوک اور خود غرضی کی علامت بن چکی ہے۔

ایم کیو ایم نے اپنے قیام سے لے کر آج تک ’’مہاجر حقوق‘‘ کے نام پر جو سیاست کی، وہ دراصل اقتدار کی کرسی تک پہنچنے کا شارٹ کٹ تھی۔ ہر دورِ حکومت میں اس جماعت نے وزارتوں، مشاورتوں، اور مراعات کے بدلے کراچی کے عوام کے مسائل کا سودا کیا۔ کبھی مشرف کے ساتھ، کبھی پیپلزپارٹی کے ساتھ، کبھی مسلم لیگ ن کے ساتھ، اور کبھی تحریک انصاف کے ساتھ۔ ہر اقتدار کے دسترخوان پر ان کا حصہ یقینی رہا۔ مگر جب عوام نے پوچھا کہ کراچی کو کیا ملا؟ تو جواب میں صرف نعروں اور بہانوں کا شور سنائی دیا۔ یہ جماعت ہمیشہ ’’اقتدار میں شمولیت‘‘ کو شہر کے مسائل کا حل سمجھتی رہی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اقتدار کے مزے لیتے ہوئے انہوں نے کراچی کی سڑکوں، نکاسی ِ آب، تعلیم، صحت اور روزگار جیسے مسائل کو پس پشت ڈال دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج کراچی کا شہری بارش میں ڈوبتا ہے، دھوپ میں جلتا ہے، اور بلدیاتی ادارے محض نعرے بازی کا میدان بن چکے ہیں۔

ایم کیو ایم کے رہنما جلسوں میں پیپلزپارٹی پر برسنے کے ماہر ہیں۔ مگر جیسے ہی وزارت یا کمیٹی کا عہدہ سامنے آتا ہے، ان کی للکار فوراً معذرت میں بدل جاتی ہے۔ پیپلزپارٹی نے کراچی کے بلدیاتی اختیارات سلب کیے، شہری اداروں کو تباہ کیا، مگر ایم کیو ایم نے کبھی سنجیدہ مزاحمت نہیں کی۔ جب بھی کوئی آئینی یا انتظامی ترمیم سامنے آتی ہے، یہ پارٹی یا تو خاموش رہتی ہے یا پیپلزپارٹی کی زبان بولنے لگتی ہے۔ نتیجہ؟ سندھ کے شہری علاقے مسلسل پسماندگی، بدانتظامی اور ناانصافی کا شکار ہیں، جبکہ ایم کیو ایم کے رہنما ٹی وی پر صرف ’’بیانات‘‘ دے کر اپنی سیاسی موجودگی کا ثبوت دیتے ہیں۔ اگر پاکستان کی پارلیمانی تاریخ دیکھی جائے تو ایک بات واضح ہے کہ ایم کیو ایم نے ہر آئینی ترمیم، بل یا قرارداد کو اپنے مفاد کے مطابق تول کر فیصلہ کیا۔ کبھی اصولوں کی خاطر نہیں، بلکہ ’’فائدے‘‘ کی بنیاد پر۔ کبھی وہ ’’متحدہ‘‘ تھی، کبھی ’’پاکستان‘‘ بنی، کبھی ’’بحالی‘‘ ہوئی، کبھی ’’رابطہ کمیٹی‘‘ نئی بن گئی مگر عوامی مسائل وہیں کے وہیں رہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کراچی کا عام شہری خود سے سوال کرتا ہے: ’’آخر ایم کیو ایم نے ہمیں کیا دیا؟‘‘ جواب واضح ہے کچھ نہیں، سوائے تقسیم، انتشار، اور مایوسی کے۔

ایم کیو ایم کے اندرونی اختلافات نے اس جماعت کو ایک مذاق بنا دیا ہے۔ کبھی ایک دھڑا لندن کا وفادار، کبھی ایک پاکستان کا محب وطن، کبھی کوئی پاک سرزمین پارٹی بناتا ہے، تو کبھی ’’اتحاد‘‘ کے نام پر نئی پریس کانفرنس ہوتی ہے۔ یہ وہ قیادت ہے جو مہاجر قوم کو متحد کرنے نکلی تھی، مگر خود ٹکڑوں میں بٹ گئی۔ اب ان کے جلسے خالی، نعرے مدھم، اور ووٹ بینک سکڑ چکا ہے۔ کراچی کا نوجوان اب ان چہروں پر اعتماد نہیں کرتا، جو ہر پانچ سال بعد نئے وعدے اور پرانے بہانے لے کر آتے ہیں۔ وفاقی حکومت ہو یا صوبائی، کراچی سب کے لیے ایک ’’کماؤ گائے‘‘ ہے، مگر کسی کے لیے ذمے داری نہیں۔ یہی حال ایم کیو ایم کا بھی ہے۔ جب اقتدار میں ہوں تو کراچی کے نام پر فنڈز لیتے ہیں، جب اقتدار سے باہر ہوں تو کراچی کی بدحالی پر آنسو بہاتے ہیں۔ ان کی سیاست نے شہر کو لسانیت، خوف اور مفاد پرستی کا اکھاڑا بنا دیا ہے۔ کراچی اب ایم کیو ایم جیسے سیاسی تاجر برداشت نہیں کر سکتا۔ اس شہر کو ایسی قیادت چاہیے جو اقتدار نہیں، خدمت کے لیے سیاست کرے۔ ایسی قیادت جو پیپلزپارٹی، پی ٹی آئی یا ن لیگ کے دروازے پر وزارت کی بھیک مانگنے نہ جائے، بلکہ عوام کے حق کے لیے لڑے۔ کراچی کے ووٹرز کو اب یہ سمجھنا ہوگا کہ جو لوگ تمہیں بار بار بیچتے رہے، وہ تمہارے خیرخواہ نہیں، تمہارے اصل دشمن ہیں۔

ایم کیو ایم کے رہنماؤں کو اب آئینہ دیکھنا چاہیے۔ وہ ’’حقوق‘‘ کی بات کرتے ہیں، مگر ان کے اپنے دفاتر عوام کے خون پسینے سے تعمیر ہوئے۔ وہ ’’اختیارات‘‘ مانگتے ہیں، مگر جب ملتے ہیں تو عوامی خدمت کے بجائے ذاتی کاروبار چمکانے میں لگ جاتے ہیں۔ ایم کیو ایم نے مہاجروں کی شناخت کو ذاتی مفادات کا ہتھیار بنا دیا۔ وہ ایک نظریہ تھی، مگر اب ایک سیاسی دکان بن چکی ہے۔ کراچی کا زوال اس وقت شروع ہوا جب اس کے نمائندے خود اس کی محرومی کے ذمے دار بن گئے۔ اب وقت ہے کہ کراچی کے عوام اٹھیں، ان سیاسی ترمیمی ماہرین کو مسترد کریں، اور ایک نئی سیاسی قوت کو جنم دیں جو کراچی کو دوبارہ روشنیوں کا شہر بنا سکے، نہ کہ ترمیموں اور وزارتوں کا کھیل۔ یہی پیغام وقت کا تقاضا ہے: کراچی اب کسی ترمیم کا محتاج نہیں؛ اسے تحریک ِ خدمت کی ضرورت ہے، سیاست ِ تجارت کی نہیں۔

میر بابر مشتاق.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایم کیو ایم کے ایم کیو ایم نے کراچی کے کراچی کا کے ساتھ ہے کہ ا کے لیے

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن