افغانستان میں بچوں کی غذائی قلت انسانی المیہ کی دہلیز پر
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
افغانستان میں بچوں کی غذائی قلت کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کی ذیلی تنظیم یونیسیف نے انتباہ جاری کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق افغان طالبان کے زیر اقتدار افغانستان میں معاشی بحران شدت اختیار کرگیا ہے۔
یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں خوراک تک محدود رسائی نے افغان بچوں میں غذائی غربت کا خطرہ بڑھا دیا ہے۔ افغانستان میں دو سال سے کم عمر کے تقریباً 90 فیصد بچے غذائی قلت میں زندگی گزار رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2025 میں، 35 لاکھ بچے غذائیت کی کمی کا شکار ہیں جبکہ 14 لاکھ شدید خطرے سے دوچار ہیں۔ غذائی قلت کے شکار بچوں میں سے 85 فیصد سے زیادہ کی عمر دو سال سے کم ہے۔
یونیسیف نے افغانستان میں بچوں کی غذائی قلت کا یہ پہلا تجزیہ کیا ہے۔ افغانستان کے صوبہ بامیان کے 54 فیصد سے زائد بچے شدید غذائی غربت کے خطرے میں ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: افغانستان میں غذائی قلت
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔