Jasarat News:
2026-06-03@06:58:42 GMT

بدل دو نظام: بروقت بیداری و عملی تحریک

اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251116-03-3

 

عالیہ شمیم

بیداری محض خواب خرگوش سے جاگ جانے کا نام نہیں ہے بلکہ ذہنی و فکری طور پر اپنے حالات و ماحول کا شعور پیدا ہوجانے اور غفلت سے ہوش میں آکر مقصد ِ زندگی کو سمجھ کر فعال ہوجانے کا نام ہے۔ گو قوموں کی بیداری لمحے بھرسے شروع ہوتی ہے، لیکن وہ لمحہ صدیوں کی نیند کو توڑ دیتا ہے۔ یہ بیداری وہ حالت ہے جب اس کا دل، ذہن، کردار اور عمل سب اللہ کی طرف لوٹ آئیں اور وہ باطل کے مقابلے میں حق کی حمایت کے لیے کھڑا ہو جائے۔ ’’یہ وہ لمحہ ہے جب انسان کو احساس ہوتا ہے کہ وہ مٹی کے ذرے میں قید نہیں، بلکہ آسمانوں کے پیام کا امین ہے۔ پھر وہ اپنے قدموں کو حق کی طرف موڑتا ہے، اپنے کردار کو سنوارتا ہے، اور اس کے اندر وہ عزم جاگ اٹھتا ہے جو باطل کے اندھیروں کو کاٹ دیتا ہے۔ قوم کی بیداری کی اصل پہچان باطل کے خلاف متحد ہوجانے کا نام ہے۔ یہ وہ بیداری ہے جس کے بغیر بقا ممکن نہیں ۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ نظاموں کی تبدیلی ہمیشہ افراد کی بیداری اور تحریک ِ عمل کے نتیجے میں ہوتی ہے۔ مغربی ہو یا امریت کا نظام خواہ جمہوریت کے نام پر ہو یا معیشت کے۔ سکون، انصاف، یا عزت نہیں دے سکتا۔۔ یہ نظام اللہ سے بے نیاز، اخلاق سے خالی، اور انسانیت سے عاری ہے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ اپنے اصل نظام یعنی نظامِ ربانی کی طرف لوٹ جائیں۔ وہ نظام جو عدل پر مبنی ہے، جہاں حاکم بھی اللہ کے سامنے جواب دہ ہے، اور جہاں انسان کی عزت، رزق اور حق محفوظ ہے۔

ظلم، استحصال اور جمود کے بوسیدہ ڈھانچے اس وقت ہلنے لگتے ہیں جب انسان اپنے ضمیر کی آواز سننے لگتا ہے۔ جب غلامی کا احساس جاگ اْٹھتا ہے اور جب ایک قوم یہ طے کر لیتی ہے کہ ’’اب بس!‘‘ بیداری دراصل شعور، عقل کی روشنی اور ایمانی حرارت کا امتزاج ہے۔ جب دل اللہ کے حکم سے دھڑکنے لگے، جب سوچ قرآن سے جڑ جائے، اور جب عمل مصطفیؐ کے اسوے سے رہنمائی پائے۔ تو یہ بیداری ایک نظام کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اور اس نظامِ بیداری میں ہر فرد اپنے حصے کا چراغ جلانے لگتا ہے، جو آگے چل کر عملی تحریک بن جاتاہے۔۔ تحریک کوئی جذباتی ہجوم یا جذباتی نعروں سے منسلک نہیں بلکہ یہ اعلیٰ نصب العین۔ بلند مقاصد۔ دیانت دارانہ قیادت اور ربّ پر بھروسا و یقین سے بنی تحریک ہے۔ یہی وہ عملی تحریک ہے جس کی بنیاد پر ہر صالح انقلاب اٹھا۔ خواب دیکھنا آسان ہے، مگر خواب کو حقیقت بنانے کے لیے قربانی، نظم اور مسلسل محنت درکار ہوتی ہے۔ دعوت و تبلیغ کا مورچہ آسان نہیںچاہے مکہ کی وادیوں میں نبی اکرمؐ کی دعوت ہو، یا برصغیر میں اقامت ِ دین کی جدوجہد؛ ہر جگہ عملی تحریک نے نظام بدلا، چہرے نہیں۔ آج پھر وہی پکار ہے: ’’بدل دو نظام کو‘‘ نظام بدلنے کا مطلب صرف چہرے نہیں نظام ہے۔ فکر، اقدار، ترجیحات، اور مرکز ِ توجہ کی تبدیلی ہے۔ سرمایہ پرستی سے رضائے الٰہی کی طرف، ظلم سے عدل کی طرف، نفع کے حساب سے تقویٰ کے معیار کی طرف، اور خود غرضی سے اجتماعیت کی طرف پلٹ جانے کا نام ہے۔ حق دو تحریک کو بدل دو نظام کو جس کا حق ہے، اسے اس کا حق دو۔ بغیر تاخیر، بغیر مصلحت، بغیر سیاسی مفاد کے۔ اپنی ذمے داری ادا کرو۔ مہنگائی، بے روزگاری، ناانصافی، صحت، تعلیم، روزگار یہ سب عوام کا بنیادی حق ہے اور ریاستی ذمے داران پر لازم ہے کہ عوام کو ان کے جائز حقوق دیں اور پورے ظالمانہ نا انصافی۔ کرپشن جیسے۔ استحصالی نظام کو جڑ سے ختم کریں اور کلمے کی بنیاد پر حاصل کیے گئے وطن عزیز کو عدل کا، امانت کا، اور خیر کا ملک بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں۔ بدل دو نظام انقلابِ فکر اور تعمیر ِ نظام کا پیغام ہے۔

عالیہ شمیم.