دہلی دھماکا انتخابی مہم کے لیے سیاسی ہتھیار
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251116-03-5
پروفیسر شاداب احمد صدیقی
مودی الیکشن مہم کے دوران عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے لاشوں پر سیاست کرتا ہے۔ الیکشن کے موقع پر فالس فلیگ آپریشن لازمی ہے اس کا مقصد پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرنا ہے اور عوامی جذبات کو بھڑکانہ ہے۔ گزشتہ دنوں دہلی کے ایک مصروف تجارتی علاقے میں ہونے والے دھماکے نے نہ صرف عوام کو خوف اور اضطراب میں مبتلا کر دیا بلکہ بھارت کے سیاسی و انتخابی منظرنامے میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ چونکہ یہ واقعہ بہار اسمبلی انتخابات سے محض چند روز قبل پیش آیا، اس لیے سماجی ذرائع ابلاغ اور بعض غیر رسمی سیاسی حلقوں نے اسے محض اتفاق قرار دینے کے بجائے ایک ’’فالس فلیگ‘‘ یا جھوٹا جھنڈا کارروائی سے تعبیر کیا ہے، جس کا مقصد عوامی ہمدردیاں سمیٹنا اور انتخابی فضا کو ایک خاص سمت میں موڑنا بتایا جا رہا ہے۔ تاہم سرکاری ترجمانوں نے اس تاثر کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تفتیشی ادارے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر تحقیقات کر رہے ہیں۔ مگر اس تضاد نے عوامی شعور میں نئے سوالات کو جنم دیا ہے کہ آیا بھارتی سیاست میں سلامتی کے واقعات کو انتخابی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے یا نہیں۔ بھارتی سیاست ہمیشہ سے طاقت، جذبات اور پروپیگنڈے کا امتزاج رہی ہے۔ خصوصاً بہار سیاسی لحاظ سے حساس صوبے میں ذات پات، مذہبی وابستگی اور علاقائی مفادات کا ملاپ انتخابی حکمت ِ عملیوں کو نئی جہت دیتا ہے۔ اگر دہلی دھماکا واقعی ایک ’’فالس فلیگ‘‘ کارروائی ثابت ہوتا ہے تو یہ کوئی پہلا واقعہ نہ ہوگا۔
2001 کے بھارتی پارلیمنٹ حملے سے لے کر 2019 کے پلوامہ واقعے تک متعدد سانحات کے بارے میں بھارت کے اندر اور بیرونِ ملک مختلف صحافتی اور تحقیقی حلقوں میں ایسے شبہات ظاہر کیے گئے کہ ان کے بعد مخصوص سیاسی جماعتوں کو انتخابی طور پر فائدہ پہنچا۔ 2001 کے پارلیمنٹ حملے کے بعد بھارتی حکومت نے پاکستان کے خلاف سخت موقف اپنایا اور عام انتخابات سے پہلے قوم پرستی کی ایک لہر پیدا ہوئی جس نے حکمراں جماعت کو سیاسی طور پر تقویت دی۔ اسی پس منظر میں معروف بھارتی ادیبہ ارون دھتی رائے، صحافی پرجنیا پٹیل اور رہنما سیتا رام یچوری جیسے ناقدین نے اس واقعے کی تحقیقات پر سوال اٹھائے اور کہا کہ شفافیت کا فقدان عوامی اعتماد کو متزلزل کرتا ہے۔ بعض سابق بھارتی پولیس اور خفیہ اداروں کے افسران، جن میں سنجیو بھٹ، اے ایس دولت اور ہرش مندر شامل ہیں، نے بھی یہ موقف اختیار کیا کہ حکومت نے اس سانحے کو انتخابی مہم میں شدت پسندی کے بیانیے کے طور پر استعمال کیا۔ اس کے نتیجے میں قوم پرستی کے جذبات نے انتخابی فضا کو شدید طور پر متاثر کیا اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو 2019 کے عام انتخابات میں تاریخی کامیابی حاصل ہوئی۔ اگرچہ ایسے شبہات کی تصدیق ہمیشہ ممکن نہیں ہوتی، مگر ان کا پیدا ہونا اس حقیقت کی علامت ہے کہ عوامی اعتماد ریاستی بیانیے پر کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ پلوامہ حملے کے بعد بھارتی ذرائع ابلاغ نے مسلسل جنگی نعروں سے عوامی ذہن کو مشتعل کیا اور ’’انتقام‘‘ کے بیانیے کو اس قدر غالب کر دیا کہ 2019 کے عام انتخابات میں حکمراں جماعت کو واضح برتری حاصل ہوئی۔ آج دہلی دھماکے کے بعد بھی اسی طرح کی فضا دکھائی دے رہی ہے، جہاں وزراء نے فوراً پاکستان اور مسلمانوں پر الزام عائد کیا، اور حزبِ اختلاف نے اس ردِعمل کو سیاسی چال قرار دیا۔ بہار کے عوام، جن کے حقیقی مسائل روزگار، تعلیم اور صحت سے متعلق ہیں، ان کے سامنے جب قومی سلامتی کا نعرہ بلند کیا جاتا ہے تو ان کی توجہ ان اہم مسائل سے ہٹ جاتی ہے۔ یہی وہ سیاسی نفسیات ہے جسے ’’فالس فلیگ‘‘ کارروائی کے تناظر میں سمجھنا ناگزیر ہے کہ خوف کے بیانیے کو اقتدار کے حصول کے لیے کس مہارت سے برتا جاتا ہے۔ دہلی پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق دھماکا ایک درمیانے درجے کا خود ساختہ دھماکا خیز آلہ (IED) تھا، جس میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ ابھی کسی تنظیم کی ذمے داری طے نہیں ہوئی تھی کہ چند معروف ٹی وی چینلوں نے فوری طور پر پاکستان کا نام جوڑ دیا۔ بعد ازاں حکومتی ترجمان نے وضاحت دی کہ ’’فالس فلیگ‘‘ سے متعلق افواہیں بے بنیاد ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ بھارت میں ایسے واقعات کی تحقیقات اکثر ابہام کا شکار کیوں رہتی ہیں؟ کئی بڑے واقعات کے بعد بھی تفتیشی رپورٹس یا تو تاخیر سے جاری ہوئیں یا ان میں تضادات پائے گئے۔ یہی غیر شفافیت عوامی اعتماد کو متزلزل کرتی ہے اور ہر نئے واقعے کے بعد سازشی نظریات کو ہوا دیتی ہے۔
ماہرین ِ سیاسیات کے مطابق بہار جیسے صوبے میں قومی سلامتی کا بیانیہ ہمیشہ حکمران جماعت کے حق میں جاتا ہے۔ بھارتی ووٹر ایسے جذباتی واقعات کے بعد سلامتی کے مسئلے کو معاشی یا سماجی مسائل پر فوقیت دیتے ہیں۔ یہی رجحان دہلی دھماکے کے بعد بھی نمایاں ہے، جہاں حزبِ اختلاف کے بیانات کو ’’دیش دروہ‘‘ یعنی غداری سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ اس رجحان سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ بھارت میں سلامتی کے واقعات محض سیکورٹی چیلنج نہیں بلکہ سیاسی بیانیے کے اہم ہتھیار بن چکے ہیں۔
ذرائع ابلاغ کا کردار اس سارے منظرنامے میں نہایت اہم ہے۔ ایک معروف چینل نے دھماکے کے چند گھنٹے بعد ہی سرخی چلائی ’’دہلی پر حملہ پاکستان نے کروایا ہے‘‘ حالانکہ تفتیشی اداروں نے کوئی ابتدائی بیان بھی نہیں دیا تھا۔ اس طرح کی غیر ذمے دارانہ رپورٹنگ نہ صرف عوامی رائے کو گمراہ کرتی ہے بلکہ حکومت کو یہ موقع دیتی ہے کہ وہ قومی سلامتی کے نام پر ہر تنقید کو دبانے میں کامیاب ہو جائے۔ یہی روش جمہوریت کے توازن کو بگاڑ دیتی ہے اور اختلافِ رائے کو دشمنی کے زمرے میں لے آتی ہے۔ عالمی تاریخ میں بھی ’’فالس فلیگ‘‘ کارروائیوں کی مثالیں ملتی ہیں۔ جب حکومتیں یا سیاسی جماعتیں دہشت گردی یا سلامتی کے واقعات کو اپنے حق میں استعمال کرنے لگتی ہیں تو اس سے جمہوری اقدار مجروح ہوتی ہیں اور ریاستی اخلاقیات کمزور پڑتی ہیں۔ بھارت جیسے ملک میں، جہاں عدلیہ اور میڈیا پر دباؤ کے خدشات پہلے ہی موجود ہیں، وہاں شفافیت اور عوامی اعتماد کا تقاضا ہے کہ ہر واقعے کی تفصیلی رپورٹ عوام کے سامنے لائی جائے۔
دوسری طرف بہار کے معاشی حقائق خود بولتے ہیں۔ اس وقت بہار صوبے میں بیروزگاری ، تعلیمی معیار قومی اوسط سے کم ہے، اور صحت کی بنیادی سہولتوں کا فقدان بڑھتا جا رہا ہے۔ اگر انتخابی موسم میں سلامتی کے واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے تو عوام کی توجہ حقیقی مسائل سے ہٹ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس دھماکے کو محض حفاظتی ناکامی نہیں بلکہ سیاسی فضا پر اثر انداز ہونے کی ممکنہ کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
جمہوری استحکام کا دار و مدار سچائی، شفافیت اور عوامی اعتماد پر ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ہر واقعے کی غیر جانب دارانہ اور فوری رپورٹ جاری کرے تاکہ افواہوں کی گنجائش باقی نہ رہے۔ ذرائع ابلاغ کو بھی اپنی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے تصدیق شدہ معلومات کے بغیر کوئی الزام نشر نہ کرنا چاہیے۔ جب قوم عقل و شعور سے فیصلے کرنے لگے تو سیاسی فریب اور خوف کے بیانیے خود بخود بے اثر ہو جاتے ہیں۔ اسی شعور، شفاف تحقیق، اور ذمے دار صحافت کی بحالی ہی وہ اقدامات ہیں جو بھارت جیسے وسیع جمہوری ملک میں عوامی اعتماد کی بنیاد مضبوط کر سکتے ہیں۔ حقیقت کو جاننا اور اسے سیاسی مفاد سے بلند رکھنا ہی کسی قوم کی اصل سلامتی ہے ورنہ ’’فالس فلیگ‘‘ جیسے واقعات سچائی کے بجائے پروپیگنڈے کا استعارہ بن کر رہ جائیں گے۔
سیاسی استحکام کا دارومدار ہمیشہ شفاف اطلاعات اور عوامی اعتماد پر ہوتا ہے۔ اگر حکومت ہر بڑے واقعے کی تفصیلی اور آزادانہ تحقیقات شائع کرے، ذرائع ابلاغ ذمے داری کے ساتھ رپورٹنگ کریں، اور انتخابی کمیشن ایسے واقعات کے دوران پروپیگنڈا مہمات پر نظر رکھے، تو ’’فالس فلیگ ‘‘ جیسے خدشات خود بخود ختم ہو جائیں گے۔ حکومتی اداروں کو چاہیے کہ ہر واقعے کے بعد حقائق کو فوری طور پر عوام کے سامنے لائیں تاکہ افواہوں کا دروازہ بند ہو۔ ذرائع ابلاغ کو اپنی ساکھ بچانے کے لیے تصدیق شدہ معلومات کے بغیر کوئی الزام نشر نہ کرنا چاہیے۔ اور عوام کو بھی چاہیے کہ وہ ہر خبر کو جذبات کے بجائے عقل و تحقیق کے ترازو میں تولیں۔ یہی رویہ ایک باشعور جمہوریت کا ضامن ہے، جو خوف کے بیانیے پر نہیں بلکہ سچائی کے علم پر یقین رکھتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سلامتی کے واقعات عوامی اعتماد ذرائع ابلاغ اور عوامی فالس فلیگ کے بیانیے جا رہا ہے واقعے کی اور عوام کے لیے کے بعد کیا جا
پڑھیں:
فیصل ممتاز راٹھور سے چوہدری یاسین کی ملاقات
ملاقات کے دوران آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد، آئندہ انتخابات کے حوالے سے جماعت کی حکمت عملی، ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاملات یکسو کرنے اور تنظیمی امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ آزاد کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور اور پیپلز پارٹی آزاد جموں و کشمیر کے صدر چوہدری محمد یسین کے درمیان ایوان وزیراعظم میں ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر موسٹ سینئر وزیر میاں عبدالوحید، وزراء حکومت سید بازل علی نقوی، جاوید اقبال بڈھانوی اور معاون خصوصی مبشر منیر اعوان بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد، آئندہ انتخابات کے حوالے سے جماعت کی حکمت عملی، ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاملات یکسو کرنے اور تنظیمی امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس موقع پر تمام وزراء نے وزیراعظم اور صدر جماعت کو اپنی اپنی تجاویز پیش کیں۔ وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر عوام کی سب سے بڑی نمائندہ جماعت ہے اور آئندہ انتخابات میں عوامی خدمت، بہتر طرز حکمرانی اور ترقیاتی ایجنڈے کی بنیاد پر بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کارکردگی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے اٹھائے گئے عملی اقدامات پارٹی کی انتخابی مہم کا اہم حصہ ہوں گے۔ صدر پیپلز پارٹی آزاد کشمیر چوہدری محمد یسین نے کہا کہ جماعت کو نچلی سطح تک مزید فعال اور منظم بنایا جائے گا تاکہ کارکنوں اور عوام کے درمیان رابطے کو مضبوط کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کارکنان ہی جماعت کا اصل سرمایہ ہیں اور ان کی مشاورت اور تجاویز کو ہر سطح پر اہمیت دی جائے گی۔ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ آئندہ انتخابات کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کی جائے گی، پارٹی تنظیموں کو مزید متحرک بنایا جائے گا اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر عوامی اعتماد پر پورا اترتے ہوئے خطے کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے اپنا کردار مزید مؤثر انداز میں ادا کرے گی۔