میرپورخاص، خواتین پر تشدد کے واقعات روکنے کیلیے اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میرپورخاص (نمائندہ جسارت) میرپورخاص ضلع میں خواتین پر تشدد، خواتین اور بچیوں کی جنسی زیادتیوں کے واقعات میں مسلسل پر انتظامیہ خواب خرگوش سے بیدار ہوگئی ، واقعات کی روک تھام کے لیے تشکیل کردہ ضلعی کمیٹی کا اجلاس ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر رشید مسعود خان کی صدارت میں ڈپٹی کمشنر آفس میں منعقد ہوا جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ٹو فیصل علی سومرو کی سربراہی میں سب کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا یہ کمیٹی ضلع بھر میں خواتین پر ہونے والے تشدد کے واقعات اور خواتین اور بچیوں کی جنسی زیادتیوں کے واقعات کے روک تھام کے لیے اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیوں میں آگاہی دینے اور احتیاطی اقدامات اٹھانے کے لیے کام کرے گی اور مستقبل میں اس قسم کے واقعات کی روکتھام کے لیے اپنی تجاویزاور سفارشات پیش کریگی اور فیصلہ کیاگیا کہ خواتین پر تشدد کے واقعات کی روک تھام کے لیے ون اسٹاپ سینٹر قائم کرکے فعال بنایا جائے گا۔ اس ضمن میں بھی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ٹو فیصل علی سومرو کی سربراہی میں محکمہ سماجی بہبودوترقی نسواں، سیف ہاؤس، پولیس اورسول سوسائٹی کے نمائندوں پر ایک کمیٹی ون اسٹاپ سینٹر کے قیام کرنے کے لیے جلد 15 پولیس سینٹر کا دورہ کرکے رپورٹ پیش کریگی جس کے بعد ون اسٹاپ سینٹر قائم کرکے فعال بنایا جائے گا۔اجلاس میں محکمہ سماجی بہبود کے ڈپٹی ڈائریکٹر انور حسین خاصخیلی، اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ ترقی نسواں فوزیہ جمالی، سیف ہاؤس کی انچارج ایڈوکیٹ نصرت میانو ، ایڈیشنل ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ عبدالوہاب عباسی، سول سوسائٹی کے شہزادو ملک، محمد بخش کپری، انجم شہزادی، رضیہ بیگم، طاہرہ اعجاز، شکیلا مغل، افشیں ،ڈی ایس پی سٹی عبدالغفور خاصخیلی، واحد بخش سنگراسی اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈپٹی کمشنر خواتین پر کے واقعات کے لیے
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔