دوسرے نمبرز سے میرے شوہر کو رابطہ کرنا بند کردیں، ڈاکٹر زینب شوہر کی سابقہ اہلیہ پر برس پڑیں
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
پاکستان کے مشہور اداکار فیروز خان کی موجودہ اہلیہ ڈاکٹر زینب اور سابقہ اہلیہ علیزہ سلطان کے درمیان انسٹاگرام پر جھڑپ ہو گئی۔
سابقہ اہلیہ علیزہ سلطان نے انسٹاگرام پوسٹ (جس کو بعد میں ڈیلیٹ کر دیا گیا) پر کمنٹ کیا کہ ’برائے مہربانی سردیوں کے کپڑے اور یونیفارم بھجوا دیں۔‘
یہ کمنٹ دیکھ کر ڈاکٹر زینب نے علیزہ سلطان کو آڑے ہتھوں لیا اور کہا کہ ایسی باتیں عوامی پلیٹ فارم پر نہیں کی جاتیں اور انہوں نے پہلے ہی فیروز خان کو اس طرح کے رویوں سے ذہنی طور پر متاثر کیا ہے، اس لیے مزید ایسا کرنا مناسب نہیں۔
انہوں نے علیزہ سلطان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے والد اور بھائی کے فون نمبرز استعمال کر کے فیروز خان سے رابطہ کرنے کی کوشش اور میسیجز بھیجنا بند کریں کیونکہ وہ پہلے ہی ان کو ذہنی طور پر بہت پریشان کر چکی ہیں۔
ڈاکٹر زینب نے مزید کہا کہ علیزہ سلطان کا فیروز خان سے رابطہ کرنے یا انہیں پریشان کرنے کا کوئی حق نہیں رہا۔
انہوں نے علیزہ سلطان کو مشورہ دیا کہ شادی کرلیں، کیونکہ ان کے مسائل شادی کے بعد ہی حل ہو سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: علیزہ سلطان ڈاکٹر زینب فیروز خان
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔