سٹی42: بانی کی پیرنی سے  تیسری بیوی بن جانےوالی بشریٰ کے متعلق دی اکانومسٹ میں تحقیقاتی رپورٹ شائع ہونے کے بعد پی ٹی آئی کے  چئیرمین بیرسٹر گوہر نے تو اس رپورٹ کی تردید کر کے خاموشی اختیار کر لی لیکن بیرسٹر گوہر سے بہت پہلے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے  قریبی ترین معاون رہنے  والے عون چوہدری اس رپورٹ کے سچا ہونے کی گواہی دینے کیلئے سامنے آ گئے۔
عمران خان کے سابق معاون اور مشیرعون چوہدری نے بتایا ہے کہ  برطانوی جریدے کے آرٹیکل میں جو بھی چھپا ہے وہ بالکل درست ہے، شرم ناک ہےکہ وزیراعظم سرکاری فیصلے بیوی سے پوچھ کر کرتے تھے۔

ویلڈن گرین شرٹس۔تھینک یو سری لنکا;چئیرمین پی سی بی محسن نقوی 

 جب بشریٰ کے عمران خان پر غیر معمولی اور پراسرار اثر کا سکینڈل انٹرنیشنل نیوز آؤٹ لیٹ مین شائع ہو کر پاکستان مین بھی بحث کا موضوع بن گیا تو عون چوہدری نے بھی زبان کھول دی۔ عون چوہدری نے آج جمعہ کی شب بتایا کہ  سابق وزیراعظم عمران خان نے 25کروڑ عوام کا مذاق بنایا ہے، اس سے ملک کی عالمی سطح پر جگ ہنسائی ہوئی ہے۔

عون چوہدری نے کہا، برطانوی جریدے کے آرٹیکل میں جو بھی چھپا ہے وہ بالکل درست ہے، شرم ناک ہےکہ وزیراعظم سرکاری فیصلے بیوی سے پوچھ کر کرتے تھے۔ 

پاکستان نے سری لنکا کو ہرا دیا

 برطانوی نیوز آؤٹ لیٹ دی اکانومسٹ نے بشری  اور عمران خان نے طرزِ حکمرانی، عمران کی حکومت کے دوران اور اس سے پہلے کے واقعات کی مکمل تحقیقات کر کے اس پر خصوصی رپورٹ شائع کی ہے جس کی باٹم لائن یہ ہے کہ ایٹمی طاقت پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان اپنی تیسری بیوی کے زیر اثر اہم فیصلے کرتے رہے اور یہ خاتون خود جادو ٹونے میں مشغول رہتی تھی۔ دی اکانومسٹ نے لکھا ہے کہ بشریٰ سے شادی نے ناصرف عمران خان کی ذاتی زندگی بلکہ اُن کے انداز حکمرانی پر بھی سوالات کھڑے کیے۔

بھارتی کرکٹر کا خاتون کے خلاف ہراسمنٹ کا مقدمہ

سینئر صحافی اوون بینیٹ جونز نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ سابق وزیراعظم کے قریبی حلقوں کے مطابق بشریٰ اہم تقرریوں اور روزمرہ سرکاری فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی تھیں جس سے عمران خان کے فیصلہ سازی کے عمل پر ’روحانی مشاورت‘ کا رنگ غالب ہونے کی شکایت پیدا ہوئی، بشریٰ کے روحانی اثر کے نتیجے میں عمران خان اپنے اعلان کردہ اصلاحاتی ایجنڈےکو نافذ کرنے میں ناکام رہے۔

جہانگیر ترین نے پی ٹی آئی بشریٰ کی وجہ سے چھوڑی

شوکت خانم ہسپتال کا فراڈ سی ای او گرفتار

دی اکانومسٹ کی رپورٹ کے مطابق بشریٰ کے سابق شوہر خاور مانیکا کے ایک رشتے دار نے جہانگیر ترین کو بتایا کہ وہ کالا جادو کرتی ہیں، تاہم پی ٹی آئی نے ان باتوں کو ناراض ملازمین کی پھیلائی ہوئی بے بنیاد کہانیاں قرار دیا۔

رپورٹ کے مطابق کچھ عرصے بعد ایک دعوت میں جہانگیر ترین سے ملاقات کے دوران بشریٰ نے خود جہانگیر ترین سے کہا کہ میں نے سفید کپڑے اس لیے پہنے ہیں تاکہ آپ مجھے کالے جادو والی عورت نہ سمجھیں۔ جہانگیر ترین نے کہا کہ انہوں نے اسی رات سمجھ لیا کہ پی ٹی آئی میں ان کا مستقبل نہیں، اور بعد میں پارٹی چھوڑ دی، جلد ہی پی ٹی آئی کے اندر بھی یہ تاثر پھیل گیا کہ اگر کسی نے بشریٰ پر تنقید کی تو وہ پارٹی سے نکال دیا جائے گا۔

سہیل آفریدی نے ریڈیو پاکستان پر حملے کا مقدمہ چلانے کی بجائے کمیشن بنانےکاحکم دےدیا

عون چوہدری کو کس وجہ سے عہدے سے ہٹایا گیا؟
برطانوی جریدے کی رپورٹ ک مین عون چوہدری کا بھی حوالہ موجود ہے۔ دی اکانومسٹ کی رپورٹ کے مطابق عون چوہدری بھی اسی بشریٰ کی وجہ سے زیرِعتاب آئے، عمران خان نے انہیں وزارتِ عظمیٰ کے عہدہ پر حلف برداری سے چند گھنٹے پہلے پیغام بھیجا کہ بشریٰ نے خواب میں دیکھا ہےکہ اگر وہ تقریب میں موجود ہوں گے  تو وہ (بشریٰ) شریک نہیں ہوں گی، اور اگلے دن عون چوہدری کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ 

عمران خان کے گھر کے عملے اور قریبی ساتھیوں کے مطابق عمران خان سیاسی اور سرکاری فیصلوں سے پہلے بشریٰ سے رائے لیتے تھے اور ان کے کہنے پر لوگوں کی تصاویر بھیج کر ان کے متعلق چہرہ شناسی کرواتے تھے۔  یہاں تک کہ ایک بار فلائٹ چار گھنٹے تک رکی رہی، کیونکہ بشریٰ کے مطابق جہاز کی اڑان کا وقت موزوں نہیں تھا۔

عون چوہدری کا شمار عمران خان کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا اور وہ بشریٰ سے عمران خان کے نکاح کی تقریب میں بھی شریک تھے  جب کہ  اس سے قبل ریحام خان سے عمران کی دوسری شادی میں بھی  وہ عمران خان کےگواہ تھے۔

Waseem Azmet.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: عون چوہدری نے جہانگیر ترین عمران خان کے دی اکانومسٹ رپورٹ کے کے مطابق

پڑھیں:

پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز

لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ مریم نواز نے’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو یو این گلوبل چیمپئن قرار دئیے جانے پر اظہار تشکر کیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار وزیراعلیٰ  کے وژنری  اقدامات کی بدولت پاکستان کے دو پراجیکٹس کواقوام متحدہ کی ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی نے ٹاپ لسٹ میں شامل کیا۔ مریم نواز کے ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل کیا گیا ہے۔ پنجاب کا ورچوئل ویمن پولیس سٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پراجیکٹس میں شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ  نے ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کی ٹیم کو ڈبلیو ایس آئی ایس کی طرف سے گلوبل چیمپئن قرار دیئے جانے پر شاباش دی ہے۔ مریم نواز  نے کہا کہ عوامی خدمات کے معتبر فورم اقوام متحدہ کے تحت (WSIS) پرائزز ڈیجیٹل گورننس پر پنجاب کے دو پروگرامز کا شامل کیا جانا اعزاز ہے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ نے 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے کیس کی مثال قائم کی۔ ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کے تحت 54 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے لئے مؤثر کارروائی قابل تحسین ہے۔ ’’میرا پنجاب‘‘ سے بچوں کے استحصال آن لائن ہراسگی اور دیگر معاملات میں معاونت کی گئی۔  ’’میرا پنجاب‘‘ کی عالمی سطح پر پذیرائی ٹیکنالوجی پر مبنی پبلک سروسز کی عالمی سطح پر اعتراف کا ثبوت ہے۔ گمشدہ افراد کے لئے میرا پیارا ایپ دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص نمایاں ہوا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب کے پراجیکٹس کی بدولت پاکستان ڈبلیو ایس آئی ایس کیٹیگری میں دو شارٹ لسٹ شدہ پراجیکٹس کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی (VCCS) کے ذریعے بچوں سے متعلق 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد کیسز نمٹائے گئے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب کرایا گیا۔ مریم نواز  کی قیادت میں پنجاب حکومت حکومت نے 3 ہزار سپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا۔ ڈبلیو ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق پراجیکٹ کے تحت گمشدہ یا اغوا ہونے والے بچوں کے 54 ہزار سے زائد کیسز پر کارروائی کی گئی۔ 77 ہزار سے زائد بچے خاندانوں سے ملوائے گئے جن میں تین ہزار سپیشل بچے بھی شامل ہیں۔ مربوط ڈیجیٹل رسپانس کے ذریعے بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے کل 1,45,772 کیسز رپورٹ، ریکارڈ 1,36,157کیسز کو کامیابی سے حل کر لیا گیا۔  رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے مجموعی طور پر 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ جبکہ 7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741بچوں میں سے 53,811بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملایا گیا۔ ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989بچے ملے،جن میں سے 21,178 کو فوری طور پر خاندانوں کے حوالے کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت سسٹم میں 930بچے لاپتہ اور1,811بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں جن کے لیے روزانہ کی بنیاد پر فالو اپ جاری ہے۔ بچوں پر تشدد اور بدسلوکی کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، جن پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 5,075ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ چائلڈ بدسلوکی کیسز میں اب تک 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں۔ بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل بد سلوکی کے 191کیسز سامنے آئے، جن پر 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
  • بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی سے ہفتہ وار ملاقات کرادی گئی
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے