برطانوی جریدے “دی اکانومسٹ” کی ایک حالیہ رپورٹ میں سابق انٹیلی جنس چیف جنرل فیض حمید پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے بشریٰ بی بی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ آئی ایس آئی نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے تعلقات کو نہیں کرایا تھا، تاہم اس کے اشارے ملے ہیں کہ اس تعلق کا فائدہ اٹھایا جا رہا تھا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بعض سینئر فوجی حکام، بشمول ریٹائرڈ جنرل قمر جاوید باجوہ، اس بات سے ناخوش تھے کہ عمران خان اپنی بیوی کی رائے پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ 2019 میں اس وقت کے آئی ایس آئی چیف جنرل عاصم منیر کو عہدے سے ہٹانے کا تعلق بھی بشریٰ بی بی سے جوڑا جاتا ہے، کیونکہ انہوں نے بشریٰ بی بی کی کرپشن کے بارے میں عمران خان کو آگاہ کیا تھا۔
دی اکانومسٹ” کے مطابق پی ٹی آئی کے کچھ رہنما یہ سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی عمران خان کو فوج کے ساتھ مصالحت کرنے پر آمادہ کر سکتا ہے تو وہ بشریٰ بی بی ہی ہیں، کیونکہ ان کا جھکاؤ فوج سے مفاہمت کی طرف ہے۔ تاہم، عمران خان کے قریبی حلقوں، بشمول ان کی بہن علیمہ خان، اور پارٹی کے سخت گیر ارکان اس مصالحت کے مخالف ہیں۔
اگر آپ چاہیں تو میں اس رپورٹ کو مزید تفصیل سے یا کسی خاص زاویے سے بھی پیش کر سکتا ہوں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات

راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی(bushra bibi) کے درمیان ہفتہ وار ملاقات کرائی گئی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔

جیل ذرائع کے مطابق ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی جہاں دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات جیل حکام کی نگرانی میں مقررہ ضابطوں کے مطابق کرائی گئی۔

دوسری جانب ملاقات کے دن کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے کسی وکیل یا خاندان کے دیگر افراد کی ملاقات نہ ہو سکی۔ جیل ذرائع کے مطابق معمول کی ملاقاتوں کے حوالے سے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات برقرار رہے۔

ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے نامزد نمائندے اور صوبائی حکومت کے بعض عہدیدار بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم انہیں بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔

مزید پڑھیں:فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر

اسی دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی اڈیالہ جیل پہنچیں، تاہم پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں جیل تک رسائی نہیں دی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے