وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ  عمران خان کی حکومت کے دور کے جتنے فیصلے تھے وہ سب روحانیت کا لبادہ اوڑھے ان کی اہلیہ کرتی تھیں۔

انہوں نے جوڈیشل کمپلیکس میں بانی پی ٹی آئی کے خلاف زیر سماعت ہتک عزت کیس کی کارروائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا کہ بانی پی ٹی آئی نے وزیراعظم شہباز شریف پر جھوٹا الزام عائد کیا تھا،آج میں عدالت پیش ہوا اور پی ٹی آئی کے وکیل کے تمام سوالوں کا جواب دیا۔

عطاء اللہ تارڑ نے بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے 2017 ء میں بانی پی ٹی آئی کے خلاف ہتک عزت کا دعوی دائر کیا تھا، یہ دعوی اس وقت کیا گیا جب بانی پی ٹی آئی نے پانامہ کیس واپس لینے کے لیے شہباز شریف پر دس ارب روپے کی پیشکش کا بے بنیاد الزام لگایا۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ جھوٹا دعوی اور من گھڑت پراپیگنڈا اس وقت ملک کے تمام بڑے اخبارات میں شائع ہوا تھا،الیکٹرانک میڈیا پر پروگرام بھی ہوئے تھے لیکن اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

انہوں نے زور دیا کہ بانی پی ٹی آئی نے یہ الزام ہر فورم پر دہرایا حالانکہ ان کا پورا نظام جھوٹ، بہتان اور گمراہ کن بیانیے کا شکار رہا۔

عطا تارڑ نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے شہباز شریف کے خلاف الزامات مختلف فورمز پر دہرائے لیکن آج دنیا کے نامور جریدے انہی الزامات کو جھوٹ اور بہتان پر مبنی قرار دے رہے ہیں،2017 کے دھرنوں کے دوران بھی بانی پی ٹی آئی نے بے بنیاد باتیں کیں۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے دور میں جتنے بھی اہم فیصلے ہوئے، وہ روحانیت کا لبادہ اوڑھے ان کی اہلیہبشری بی بی کی معاونت سے کیے جاتے تھے، معاشی اور سیاسی دونوں نوعیت کے فیصلوں میں ان کی اہلیہ کا مرکزی کردار تھا۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم ایک شخص کے خلاف لندن کی عدالت نے بھی فیصلہ دیا ہے جو حقائق کی مزید تصدیق کرتا ہے، بیرون ملک بیٹھ کر سیاست کرنے والا شخص فوج پر الزامات لگاتا رہتا ہے، ملک کے مفاد کے خلاف بیرون ملک بیٹھ کر غلط بیانی اور پروپیگنڈا کرنا انتہائی نقصان دہ ہے۔

وزیر اطلاعات نے برطانوی جریدے ‘دی اکانومسٹ’ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ حکومتی معاملات میں اثرانداز ہوتی تھیں، روحانیت کی بنیاد پر فیصلے کیے جاتے اور ان پر عملدرآمد بھی ہوتا تھا۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کو بھی ایسے ہی فیصلوں کے تحت وزارت اعلی کے عہدے پر تعینات کیا گیا، بانی پی ٹی آئی کے دور میں پورے نظام کو جھوٹ اور بہتان کی بنیاد پر چلایا گیا۔

دہشت گردی کے واقعات اور سکیورٹی کارروائیوں کے حوالے سے وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ وانا کیڈٹ کالج میں 550 سے زائد طلبہ کی جانیں بچائی گئیں، جو پاک فوج کی بہادری کی علامت ہے، فوج نے دہشت گردوں کو جہنم واصل کر کے بڑی کارروائی کی۔

انہوں نے اسلام آباد کچہری حملے کے حوالے سے کہا کہ تحقیقات جاری اور دہشت گرد اب "سافٹ ٹارگٹس” کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وزیر اطلاعات نے سری لنکن ہائی کمشن اور زمبابوے کرکٹ ٹیم کا شکریہ ادا کیا اور زور دیا کہ کھیل اور امن کی سرگرمیاں ہر صورت جاری رہیں گی۔ آئینی ترامیم اور عدالتی اصلاحات کے حوالے سے سوال پر عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ آئینی ترامیم کے ذریعے فیصلے ہوتے ہیں اور پارلیمنٹ کو قانون سازی کا مکمل اختیار حاصل ہے، ججز کی تمام تعیناتیاں میرٹ پر ہوں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں آئینی نوعیت کے کیسز سننے کے لیے الگ بینچ یا عدالت قائم ہونے سے عوام کو فائدہ ہوگا، 27ویں آئینی ترمیم کو عجلت میں منظور کرنے کا الزام درست نہیں ،اس پر کئی برسوں سے بات ہو رہی تھی، لیکن عملدرآمد نہیں ہو سکا۔

وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ جھوٹے بیانیوں اور پروپیگنڈے سے ملک کو نقصان پہنچ رہا اور حکومت حقائق کی بنیاد پر آگے بڑھ رہی ہے، پی ٹی آئی کا بیانیہ بعض بیرونی عناصر خصوصا افغانستان کے پروپیگنڈا کے ساتھ مل جاتا ہے جو پاکستان کیلئے خطرناک ہے۔

قبل ازیں شہباز شریف کی بانی پی ٹی آئی کے خلاف ہتک عزت دعویٰ کیس کی سماعت ہوئی،  ایڈیشنل سیشن جج یلماز غنی کیس نے سماعت کی،بانی پی ٹی آئی کے وکیل محمد حسین نے وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کے بیان پر جرح کی۔

عدالت نے جرح کے کاغذات پر وفاقی وزیر سے دستخط کروائے، عدالت نے اسپیکر صوبائی اسمبلی ملک احمد خان کو طلب کر لیا اور 29 نومبر تک سماعت ملتوی کردی۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی نے کہ بانی پی ٹی آئی بانی پی ٹی آئی کے وزیر اطلاعات نے ان کی اہلیہ شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے تارڑ نے کے خلاف

پڑھیں:

وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم

سٹی 42:وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری  وفد کی ملاقات،وزیر اعظم  نے کہا بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے  پاک چین  دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چینی کمپنی فیمسنFAMSUN کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین Jack Chen کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی ۔ وزیراعظم نے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا

وزیر اعظم نے کہا پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے یہ دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔وزیر اعظم نے چینی کمپنی کا پاکستان میں اجناس کے  سٹوریج کے مراکز کو اسٹیٹ آف آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔ 

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

 اس منصوبے سے  ملک میں  زراعت کے سیکٹر میں جدید ترین ٹیکنالوجی آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ پاکستان کی افرادی قوت کی ہنر مندی اور  تربیت کو ان منصوبوں  کا حصہ بنایا جائے۔

 جیک چین نے پاکستان میں پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیافیمسن کے چیف ایگزیکٹو  نے وزیراعظم سے انکے حالیہ دورہء چین کے دوران اپنی  ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں وہ پاکستان کا دورہ کررہے ہیں اور غذائی تحفظ کے حوالے سے قابل عمل منصوبے  پر بات چیت کی جارہی ہے۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

جناب جیک چین نے کہا کہ فیمسن پاکستان میں غذائی تحفظ کے حوالے سے بہتر سٹوریج مراکز، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تربیت فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔بریفنگ میں بتایا کہ فیمسن پاکستان میں گرین سائلوز کے قیام کے حوالےسے ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کرے گی سٹوریج سینٹرز کو جدید گرین سائلوز میں بدلا جائے گا ۔فیمسن اور گرین پاکستان انیشئیٹو کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں

ملاقات میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر  اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔فیمسن زراعت، جانوروں کی خوراک اور فوڈ پراسیسنگ کے حوالے سے چین کی بڑی  کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ 

بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ