پاکستان، چین اور امریکا سے 20 ہزار پی ایچ ڈی اسکالرشپس کے حصول کا خواہاں WhatsAppFacebookTwitter 0 15 November, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (آئی پی ایس )وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان چین اور امریکا سے 20 ہزار پی ایچ ڈی اسکالرشپس (دونوں ملکوں سے 10، 10 ہزار) حاصل کرنے کا خواہاں ہے اور ساتھ ہی ملک کی جامعات کی عالمی معیار کے مطابق درجہ بندی کے لیے کثیر معیاری فریم ورک تیار کر رہا ہے، تاکہ علم پر مبنی ترقی کے لیے مضبوط انسانی وسائل کی بنیاد رکھی جا سکے۔ ماہانہ ڈیولپمنٹ اپ ڈیٹ اکتوبر 2025 کے اجرا کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ حکومت متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر پاکستانی جامعات کی عالمی طرز پر درجہ بندی کے لیے 7 نکاتی فریم ورک تیار کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی تقریبا 60 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے، جسے علمی بنیاد پر اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے، ساتھ ہی آبادی میں اضافے کو بھی کنٹرول کرنا ضروری ہے، اگر آبادی پر قابو نہ پایا گیا تو 2047 میں، جب پاکستان اپنی 100ویں سالگرہ منائے گا، آبادی 38 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت، چین سے درخواست کر چکی ہے کہ وہ آئندہ 10 برسوں میں اپنے سرکردہ تعلیمی اداروں میں مصنوعی ذہانت، انجینئرنگ اور ابھرتے ہوئے سائنسی شعبوں میں 10 ہزار پی ایچ ڈی اسکالرشپس مختص کرے، تاکہ ملک کے پاس علم پر مبنی ترقی کے لیے مضبوط انسانی وسائل پیدا کیے جا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا منصوبہ ہے کہ امریکا کی اعلی یونیورسٹیوں سے بھی 10 ہزار پی ایچ ڈی اسکالرشپس حاصل کی جائیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے معاشی اشاریے بہتری کی طرف گامزن ہیں، مگر ملک موسمیاتی تبدیلیوں کا بڑا شکار رہا ہے، جیسا کہ 2022 اور 2025 کے دو مسلسل سیلابوں سے ظاہر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حالیہ سیلاب سے 2022 کے مقابلے میں کم نقصان ہوا، مگر 1988 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ پنجاب کو اتنے تباہ کن سیلاب کا سامنا کرنا پڑا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرقومی سلامتی کا ڈھانچہ از سر نو ترتیب ، 1976 کے بعد سب سے بڑی تبدیلی قومی سلامتی کا ڈھانچہ از سر نو ترتیب ، 1976 کے بعد سب سے بڑی تبدیلی روس کا یوکرین پر بڑا حملہ، 430 ڈرونز اور 18 میزائل داغ دیے، ہلاکتیں غزہ میں عالمی فورس کی تعیناتی؛ پاکستان، اہم مسلم ممالک کی امریکی قرارداد کی حمایت صدر مملکت نے پاک فوج سے متعلق ترمیمی بل 2025 پر دستخط کر دیے بلومبرگ نے پاکستان کی معیشت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کا اعلان کر دیا اسلام آباد کچہری خودکش حملے کا ایک اور اہم سہولت کار گرفتار TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار