اسلام آباد(نیوزڈیسک)سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی ) نے مالی سال 2025 کے پہلے 4 مہینوں میں 14 ہزار 802 نئی کمپنیاں رجسٹر کیں جو ملک کے کارپوریٹ سیکٹر پر بڑھتے ہوئے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ نے سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیے کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ان میں سے 99.

9 فیصد کمپنیوں کی رجسٹریشن آن لائن مکمل ہوئیں، اس طرح پاکستان میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی کل تعداد 2 لاکھ 72 ہزار 918 ہوگئی۔

اس مدت کے دوران کمپنیوں کا کل ادا شدہ سرمایہ 20.59 ارب روپے رہا، کمپنیوں کے ڈھانچے کے لحاظ سے، 59 فیصد نئی رجسٹریشنز پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیوں کی تھیں جبکہ 37 فیصد سنگل ممبر کمپنیوں (ایس ایم سی )کی تھیں، باقی 4 فیصد میں پبلک اَن لسٹڈ کمپنیاں، غیر منافع بخش ادارے، تجارتی ادارے اور لمیٹڈ لائیبلٹی پارٹنرشپس شامل تھیں۔

اس کے علاوہ اس مدت کے دوران 10 غیر ملکی کمپنیوں نے بھی پاکستان میں اپنا کاروباری دفتر قائم کیا، یہ کمپنیاں ایس ای سی پی کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے آن لائن رجسٹر کی گئیں، جس سے ملک بھر کے کاروباری افراد کو دفتر جانے کے بغیر اپنی کمپنی رجسٹر کرانے کی سہولت ملی۔

لاہور، اسلام آباد اور کراچی جیسے بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ تقریباً 30 فیصد رجسٹریشنز ملک کے دیگر 250 شہروں اور قصبوں سے ہوئیں، ان میں لیہ، بورے والا، بھکر، پاکپتن، حاصل پور، چمن، گوادر، ژوب، تربت، بنوں، کوہاٹ، ٹانک، سوات، مانسہرہ، ٹھٹھہ، لاڑکانہ، دادو، روہڑی، ہنزہ اور گلگت شامل ہیں، یہ ایس ای سی پی کی ڈیجیٹل سروسز کے بڑھتے ہوئے دائرہ کار کی عکاسی کرتا ہے۔

صوبوں کے لحاظ سے اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں 7,476 کمپنیاں رجسٹر کی گئیں، اس کے بعد اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری میں 3,230، سندھ میں 2,197، خیبر پختونخوا میں 1,320، گلگت بلتستان میں 337، اور بلوچستان میں 242 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کے شعبوں میں سب سے زیادہ 2,999 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جن کے بعد ٹریڈنگ میں 1,954، سروسز میں 1,807، اور رئیل اسٹیٹ ڈیولپمنٹ و تعمیرات میں 1,393 کمپنیاں رجسٹر کی گئیں۔ دیگر سرگرم شعبوں میں سیاحت و ٹرانسپورٹ (1,042)، تعلیم (787)، خوراک و مشروبات (751)، مائننگ و پتھروں کی کٹائی (346)، مارکیٹنگ و اشتہارات (342)، ٹیکسٹائل (327)، دواسازی (284)، زرعی کاشتکاری (242)، صحت کے شعبے (242)، کاسمیٹکس و ٹوائلٹریز (229)، انجینئرنگ (236)، ایندھن و توانائی (188)، کیمیکل (184)، اور آٹو و متعلقہ صنعتیں (153) شامل ہیں۔

اس کے علاوہ 1,296 کمپنیاں دیگر مختلف شعبوں میں رجسٹر ہوئیں جن میں غیر منافع بخش ادارے، کیبل و برقی آلات، مواصلات، بجلی کی پیداوار، لکڑی کی کٹائی، کھیل، فنون و ثقافت، اسٹیل، نشریات، کاغذ و بورڈ، انشورنس، اور این بی ایف سیز شامل ہیں، غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی مثبت رجحان دیکھنے میں آیا کیونکہ 332 نئی کمپنیوں نے مختلف ممالک کے بین الاقوامی سرمایہ کاروں سے سرمایہ حاصل کیا۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ

اسلام آباد:

پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔

بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
  • راولپنڈی میں ہوٹل سے سرکاری ادارے کے اہلکار کی پھندا لگی لاش برآمد
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ