ایس ای سی پی نے 2025 کے 4 مہینوں میں 14 ہزار 802 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ کیں
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی ) نے مالی سال 2025 کے پہلے 4 مہینوں میں 14 ہزار 802 نئی کمپنیاں رجسٹر کیں جو ملک کے کارپوریٹ سیکٹر پر بڑھتے ہوئے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ نے سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیے کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ان میں سے 99.
اس مدت کے دوران کمپنیوں کا کل ادا شدہ سرمایہ 20.59 ارب روپے رہا، کمپنیوں کے ڈھانچے کے لحاظ سے، 59 فیصد نئی رجسٹریشنز پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیوں کی تھیں جبکہ 37 فیصد سنگل ممبر کمپنیوں (ایس ایم سی )کی تھیں، باقی 4 فیصد میں پبلک اَن لسٹڈ کمپنیاں، غیر منافع بخش ادارے، تجارتی ادارے اور لمیٹڈ لائیبلٹی پارٹنرشپس شامل تھیں۔
اس کے علاوہ اس مدت کے دوران 10 غیر ملکی کمپنیوں نے بھی پاکستان میں اپنا کاروباری دفتر قائم کیا، یہ کمپنیاں ایس ای سی پی کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے آن لائن رجسٹر کی گئیں، جس سے ملک بھر کے کاروباری افراد کو دفتر جانے کے بغیر اپنی کمپنی رجسٹر کرانے کی سہولت ملی۔
لاہور، اسلام آباد اور کراچی جیسے بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ تقریباً 30 فیصد رجسٹریشنز ملک کے دیگر 250 شہروں اور قصبوں سے ہوئیں، ان میں لیہ، بورے والا، بھکر، پاکپتن، حاصل پور، چمن، گوادر، ژوب، تربت، بنوں، کوہاٹ، ٹانک، سوات، مانسہرہ، ٹھٹھہ، لاڑکانہ، دادو، روہڑی، ہنزہ اور گلگت شامل ہیں، یہ ایس ای سی پی کی ڈیجیٹل سروسز کے بڑھتے ہوئے دائرہ کار کی عکاسی کرتا ہے۔
صوبوں کے لحاظ سے اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں 7,476 کمپنیاں رجسٹر کی گئیں، اس کے بعد اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری میں 3,230، سندھ میں 2,197، خیبر پختونخوا میں 1,320، گلگت بلتستان میں 337، اور بلوچستان میں 242 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کے شعبوں میں سب سے زیادہ 2,999 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جن کے بعد ٹریڈنگ میں 1,954، سروسز میں 1,807، اور رئیل اسٹیٹ ڈیولپمنٹ و تعمیرات میں 1,393 کمپنیاں رجسٹر کی گئیں۔ دیگر سرگرم شعبوں میں سیاحت و ٹرانسپورٹ (1,042)، تعلیم (787)، خوراک و مشروبات (751)، مائننگ و پتھروں کی کٹائی (346)، مارکیٹنگ و اشتہارات (342)، ٹیکسٹائل (327)، دواسازی (284)، زرعی کاشتکاری (242)، صحت کے شعبے (242)، کاسمیٹکس و ٹوائلٹریز (229)، انجینئرنگ (236)، ایندھن و توانائی (188)، کیمیکل (184)، اور آٹو و متعلقہ صنعتیں (153) شامل ہیں۔
اس کے علاوہ 1,296 کمپنیاں دیگر مختلف شعبوں میں رجسٹر ہوئیں جن میں غیر منافع بخش ادارے، کیبل و برقی آلات، مواصلات، بجلی کی پیداوار، لکڑی کی کٹائی، کھیل، فنون و ثقافت، اسٹیل، نشریات، کاغذ و بورڈ، انشورنس، اور این بی ایف سیز شامل ہیں، غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی مثبت رجحان دیکھنے میں آیا کیونکہ 332 نئی کمپنیوں نے مختلف ممالک کے بین الاقوامی سرمایہ کاروں سے سرمایہ حاصل کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (Pakistan Institute of Development Economics) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی ہے، جسے موجودہ معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ایک اہم پالیسی تجویز قرار دیا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی جانب سے جاری کردہ شواہد پر مبنی فریم ورک کے مطابق کم از کم اجرت میں اضافہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اور سماجی ضرورت ہے، جو گھریلو سطح پر قوتِ خرید، غربت میں کمی، غیر رسمی روزگار کے رجحانات اور مجموعی معاشی استحکام پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم اجرت 45 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جاتی ہے تو یہ موجودہ 40 ہزار روپے کی سطح کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس اضافے کو محنت کش طبقے کی مالی مشکلات میں کمی اور ان کی معاشی استعداد بہتر بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض لیبر ڈپارٹمنٹ تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، مہنگائی کے دباؤ اور مقامی مارکیٹ کی طلب سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجرت میں مناسب اضافہ نہ صرف مزدور طبقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ پیداواری عمل میں بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:حکومت کا ریئل اسٹیٹ پیکیج تیار، فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے 1.5 فیصد تک لانے کی تجویز
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط مہنگائی کی شرح تقریباً 6.19 فیصد رہی، تاہم اپریل 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، جس نے عام شہریوں کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کیا۔
موجودہ معاشی صورتحال میں اجرتوں میں اضافہ ایک متوازن پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت اور روزگار کے مواقع پر بھی اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔
پائیڈ کی سفارش کے بعد اب یہ معاملہ حکومتی سطح پر غور کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں حتمی فیصلہ بجٹ پالیسی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔