data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کیوبا میں اس وقت وبائی بحران شدت اختیار کر چکا ہے، جہاں مچھروں کے ذریعے پھیلنے والی دونوں خطرناک بیماریاں ڈینگی بخار اور چکن گنیا تیزی سے بے قابو ہو رہے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ملک بھر میں پھیلنے والے ان وائرسز نے ایسی شدت اختیار کر لی ہے کہ جزیرہ نما کی تقریباً ایک تہائی آبادی براہِ راست متاثر ہو چکی ہے جب کہ ہزاروں شہری ہر روز بخار، جسم درد اور کمزوری جیسے شدید اثرات کے ساتھ اسپتالوں کا رخ کر رہے ہیں۔

طبی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر وبا پر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال ایک بڑے انسانی بحران کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔

کیوبا کے چیف ایپیڈیمیالوجسٹ فرانسسکو دوران نے واضح کیا کہ موجودہ حالات غیر معمولی حد تک خراب ہو چکے ہیں۔ حکومت اسی طرح ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہی ہے جس طرح کورونا وائرس کے دوران کیا گیا تھا، تاکہ ویکسین، ادویات اور طبی امداد کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔

انہوں نے کہا کہ چکن گنیا، جو چند سال پہلے تک کیوبا میں شاذونادر ہی دیکھا جاتا تھا، اب بڑے پیمانے پر پھوٹ پڑا ہے، جبکہ ڈینگی بخار جو عرصہ دراز سے کیوبا میں موجود تھا، اس مرتبہ غیر معمولی شدت کے ساتھ سامنے آیا ہے۔

کیوبا کا دارالحکومت ہوانا ان علاقوں میں شامل ہے جہاں وبا نے سب سے زیادہ تباہی مچائی ہے۔ گلی کوچوں، گندے نالیوں، کھلے پانی اور کچرے کے ڈھیر مچھروں کی افزائش کے بڑے مراکز بن چکے ہیں۔ حکومتی ٹیموں نے جمعرات کے روز بڑے پیمانے پر مچھر مار اسپرے کا آغاز کیا ہے تاکہ فوری طور پر وائرس کے پھیلاؤ میں کمی لائی جا سکے۔

مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ صرف اسپرے کافی نہیں۔ شہر میں برسوں سے جمع کچرے کی صفائی، پانی کی لیکیج روکنے اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار انفرااسٹرکچر کی مرمت جیسے بنیادی کاموں کے بغیر اس مسئلے کا دیرپا حل ممکن نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کیوبا میں اختیار کر

پڑھیں:

مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔

انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: لانڈھی 89 کے قریب گیس سلنڈر کی دکان میں دھماکا، آگ بھرک اتھی
  • آبنائے ہرمز اور باب المندب کا متبادل تیار کرنے میں دہائیاں لگیں گی، عرب ماہر
  • کیوبا کے سفارتخانے میں فوٹو نمائش کے ذریعے فیڈل کاسترو کی صد سالہ تقریبات کا انعقاد
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم