سپریم کورٹ کا فل کورٹ اجلاس، نئے رولز 2025 متفقہ طور پر منظور
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
اسلام آباد (خصوصی رپورٹر) چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحیی آفریدی کی زیر صدارت سپریم کورٹ کا فل کورٹ اجلاس منعقد ہوا جس میں سپریم کورٹ رولز 2025 میں ترمیم کی متفقہ طور پر منظوری دے دی گئی ہے۔ بعدازاں اجلاس کا اعلامیہ بھی جاری کر دیا گیا ہے جس کے مطابق ترامیم کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں کی گئیں۔ یہ کمیٹی سپریم کورٹ رولز 2025 کے آرڈر I کے رول 1(4) کے تحت قائم کی گئی تھی تاکہ رولز پر عملدرآمد کے دوران پیش آنے والی مشکلات کا جائزہ لے کر انہیں دور کرنے کے لیے سفارشات پیش کی جا سکیں۔ اعلامیہ کے مطابق کمیٹی جسٹس شاہد وحید، جسٹس عرفان سعادت خان، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل تھی، جنہوں نے سپریم کورٹ رولز 1980 کا باریک بینی سے جائزہ لیا، سپریم کورٹ رولز 2025 کا مسودہ تیار کیا اور قوانین میں موجود پیچیدگیوں کو دور کرنے سے متعلق تجاویز مرتب کیں۔ فل کورٹ نے ہر رکن کی انفرادی طور پر مخلصانہ محنت کو سراہا اور ان کے کردار کو اہم اور قابل تحسین قرار دیا۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ رولز 2025 میں کی گئی اپ ڈیٹس کا مقصد بہتر سروس ڈلیوری، عدالتی نظام میں بہتری اور عوام کو سستا و جلد انصاف فراہم کرنا ہے۔ اجلاس میں فل کورٹ نے متفقہ طور پر ایڈووکیٹ محمد منیر پراچہ کو سپریم کورٹ رولز 2025 کے آرڈر IV کے رول 5 کے تحت سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان کا درجہ دینے کی منظوری بھی دی۔ فل کورٹ نے اعلان کیا کہ سپریم کورٹ رولز 2025 کو باضابطہ طور پر اپ ڈیٹ کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ رولز 2025 فل کورٹ
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔