data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251115-01-22

 

 

اسلام آباد (نمائندہ جسارت،خبر ایجنسیاں) صدر مملکت آصف علی زرداری نے عدالت عظمیٰ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفے منظور کرلیے۔ صدر مملکت آصف زرداری نے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفے منظور کرلیے ہیں جنہوں نے گزشتہ روز اپنے منصب سے استعفا دے دیا تھا۔جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات پر مشتمل استعفے میں کہا تھا کہ 27 ویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر ایک سنگین حملہ ہے، 27 ویں آئینی ترمیم نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ میں نے ادارے کی عزت، ایمان داری اور دیانت کیساتھ خدمت کی، میرا ضمیر صاف ہے اور میرے دل میں کوئی پچتاوا نہیں ہے اور سپریم کورٹ کے سینئرترین جج کی حیثیت سے استعفا پیش کرتا ہوں۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا تھا کہ 27 ویں ترمیم کی منظوری سے پہلے میں نے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھ کر اس بات پر تشویش کا اظہار کیا تھا کہ اس میں تجویز کردہ شقوں کا ہمارے آئینی  نظام پر کیا اثر پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ اگرآنے والی نسلیں انہیں کسی مختلف نظر سے دیکھیں گی، تو ہمارا مستقبل ہمارے ماضی کی نقل نہیں ہو سکتا۔جسٹس اطہر من اللہ نے لکھا کہ ججوں کا لباس آخری بار اتارتے ہوئے عدالت عظمیٰ جج کے عہدے سے رسمی استعفا پیش کرتا ہوں جو فوری طور پر مؤثر ہوگا۔علاوہ ازیںقومی اسمبلی اور سینیٹ سے 27ویں آئینی ترمیم منظور ہونے کے بعد جسٹس امین الدین خان نے پہلے وفاقی آئینی عدالت کے سربراہ کے طور پر حلف اٹھا لیا۔آئینی عدالت کے سربراہ جسٹس امین الدین ایوان صدر میں حلف اٹھایا، صدر مملکت آصف علی زرداری نے آئینی عدالت کے سربراہ سے حلف لیا۔حلف برداری کی تقریب میں فیلڈ مارشل عاصم منیر، چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی ساحر شمشاد اور وزیراعظم شہباز شریف شریک ہوئے۔ چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی بھی شریک ہوئے۔چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی، وفاقی آئینی عدالت کے سربراہ جسٹس امین الدین خان، وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت اکھٹے حلف برداری کی تقریب کے لیے ہال میں پہنچے جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی اکھٹے ہال میں آئے۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان بھی حلف برداری کی تقریب میں شریک ہوئے۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عالیہ نیلم بھی حلف برداری کی تقریب میں شریک ہوئیں۔ذرائع کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان اسلام آباد ہائیکورٹ روم نمبر ایک میں بیٹھیں گے جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کورٹ روم 2 نمبر میں منتقل ہو جائیں گے۔دریں اثناء پاکستان کی پہلی وفاقی آئینی عدالت کے تین ججز نے بھی حلف اٹھا لیا، وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے تینوں ججز سے حلف لیا۔وفاقی آئینی عدالت کے تین ججز کی حلف برداری کی تقریب اسلام آباد ہائی کورٹ بلڈنگ میں منعقد ہوئی۔ وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس امین الدین خان نے اپنی عدالت کے تین ججز جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی سے حلف لیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر بھی حلف برداری تقریب میں اسٹیج پر موجود تھے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب طاہر، جسٹس خادم سومرو، جسٹس محمد اعظم خان، جسٹس محمد آصف اور جسٹس انعام امین منہاس بھی وفاقی آئینی عدالت کے ججز کی تقریب حلف برداری میں شریک ہوئے۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز، لا افسران، اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے صدر واجد گیلانی اور سیکرٹری منظور ججہ بھی تقریب میں شریک تھے۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس اعجاز اسحاق خان، جسٹس بابر ستار اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز بھی تقریب میں نہیں آئے۔ادھروفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے اپنا پہلا بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وفاقی آئینی عدالت کا رجسٹرار تعینات کردیا ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے سابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد حفیظ کو رجسٹرار آئینی عدالت لگا دیا ہے۔ذرائع  نے بتایا کہ چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان نے مظہر بھٹی کو سیکرٹری ٹو چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت تعینات کردیا ہے۔علاوہ ازیں وفاقی آئینی عدالت کے نئے جج جسٹس کے کے آغا کل وفاقی عدالت کے جج کی حیثیت میں حلف اٹھائیں گے، چیف جسٹس امین الدین خان جسٹس کے کے آغا سے حلف لیں گے۔ذرائع نے بتایا کہ حلف برداری کی تقریب اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوگی۔علاوہ ازیںوفاقی آئینی عدالت کے ججز کی تعداد بھی بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے لیے صدر مملکت آصف زرداری نے صدارتی آرڈر جاری کر دیا۔وفاقی آئینی عدالت چیف جسٹس سمیت 13 ججز پر مشتمل ہوگی۔جسٹس علی باقر نجفی، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس روزی خان، جسٹس کے کے آغا خان اور جسٹس عامر فاروق وفاقی آئینی عدالت کے جج ہوں گے۔دوسری جانب عدالت عظمیٰ کی جج جسٹس مسرت ہلالی نے وفاقی آئینی عدالت کی جج بننے سے معذرت کر لی۔ذرائع کے مطابق جسٹس مسرت ہلالی نے صحت کے مسائل کے سبب معذرت کی ہے۔دوسری جانب ذرائع نے بتایا ہے کہ جسٹس مسرت ہلالی کے انکار کے بعد ان کو زیر غور ہی نہیں لایا گیا۔قبل ازیںعدالت عظمیٰ کے فل کورٹ اجلاس میں سپریم کورٹ رولز 2025 میں ترامیم کی منظوری دے دی گئی۔چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں فل کورٹ اجلاس ہوا جس میں عدالت عظمیٰ کے 19 میں سے17جج شریک ہوئے اور دو ججوں جسٹس منیب اختر اور جسٹس عائشہ ملک نے شرکت نہیں کی۔اس سے قبل سپریم کورٹ کے ججوں کی مجموعی تعداد 24 تھی اور دو ججز کے استعفے کے بعد عدالت عظمیٰ کے ججوں کی تعداد 22 ہوگئی۔اعلامیے کے مطابق سپریم کورٹ رولز 1980 کا جامع جائزہ مکمل کرلیا گیا اور نئی ترامیم منظور کی گئیں۔منیر پراچہ کو سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کا درجہ دینے کی منظوری دی گئی۔ جسٹس شاہد وحید، جسٹس عرفان سعادت، جسٹس نعیم افغان، جسٹس عقیل عباسی کی کمیٹی نے مسودہ تیارکیا۔

 

اسلام آباد، صدر مملکت آصف زرداری وفاقی آئینی عدالت کے پہلے سربراہ جسٹس امین الدین خان سے حلف لے رہے ہیں، وزیر اعظم شہباز شریف ، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی بھی موجود ہیں

نمائندہ جسارت.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: وفاقی ا ئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان چیف جسٹس امین الدین خان نے ا ئینی عدالت کے سربراہ اسلام ا باد ہائی کورٹ حلف برداری کی تقریب جسٹس منصور علی شاہ جسٹس اطہر من اللہ صدر مملکت ا صف عدالت کے جج عدالت عظمی سپریم کورٹ شریک ہوئے کے استعفے اور جسٹس کے مطابق میں شریک کورٹ کے بھی حلف دیا ہے سے حلف

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن