سپریم کورٹ،PPA،پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2025 بھی منظور کر لیاگیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک) قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2025 بھی منظور کر لیا، پریکٹس اینڈ پروسیجر سے متعلق شق 191 اے کو نکال دیا گیا۔
سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل بھی کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔ بل وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کیا۔
مقدمات سننے کے لیے بینچ بنانے کا اختیار چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی کو دیا گیا ہے، کمیٹی میں چیف جسٹس سپریم کورٹ کے علاوہ، سینئر ترین جج شامل ہوں گے۔
بینچز بنانے والی کمیٹی کے تیسرے رکن جج چیف جسٹس کے نامزد کردہ ہوں گے، کمیٹی کے کسی رکن کی عدم موجودگی میں چیف جسٹس کسی اور جج کو رکن نامزد کر سکیں گے، کمیٹی بینچ بنانے کا فیصلہ اکثریت سے کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پریکٹس اینڈ پروسیجر سپریم کورٹ چیف جسٹس
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔