فلسطینی قیدیوں پر تشدد، اقوام متحدہ نے اسرائیل کو کٹہرے میں کھڑا کرلیا، سخت سوالات
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے انسدادِ تشدد میں اسرائیل سے فلسطینی قیدیوں پر مبینہ طور پر کیے جانے والے منظم تشدد اور بدسلوکی کے حوالے سے سخت سوالات کیے گئے۔
کمیٹی کے رکن پیٹر ویڈل کیسنگ نے بتایا کہ مختلف اداروں اور تنظیموں کی رپورٹس میں اسرائیلی حراستی مراکز میں تشدد اور غیر انسانی سلوک کے بے شمار واقعات درج ہیں، جن میں بچوں اور کمزور طبقات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
’یہ الزامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تشدد ایک ریاستی پالیسی کی صورت اختیار کر چکا ہے، جو گرفتاری سے لے کر قید تک ہر سطح پر موجود ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ غزہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کے دوران فلسطینی قیدیوں پر تشدد کے واقعات ’غیر معمولی حد تک‘ بڑھ گئے ہیں۔
کمیٹی کو موصول رپورٹس کے مطابق، قیدیوں کے ساتھ ہونے والے سلوک میں شدید مارپیٹ، بجلی کے جھٹکے، بھوک و پیاس سے تڑپانا، پانی میں ڈبونا (واٹر بورڈنگ) اور جنسی نوعیت کی دھمکیاں شامل ہیں۔
اسرائیلی مؤقفاقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینیئل میرون نے ان الزامات کو ’جھوٹ اور گمراہ کن معلومات‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنی اخلاقی اقدار اور اصولوں کے مطابق بین الاقوامی ذمہ داریوں پر عمل کر رہا ہے، حتیٰ کہ دہشتگرد تنظیموں کے خطرات کے باوجود بھی۔
اقوام متحدہ کی یہ کمیٹی 10 آزاد ماہرین پر مشتمل ہے جو کنونشن اگینسٹ ٹارچر (CAT) کے نفاذ کی نگرانی کرتی ہے۔ کمیٹی ہر رکن ملک کا باقاعدہ وقفے سے جائزہ لیتی ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ وہ تشدد کے خلاف اپنے وعدوں پر کس حد تک عمل پیرا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل اقوام متحدہ غزہ فلسطینیوں پر تشدد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل اقوام متحدہ فلسطینیوں پر تشدد اقوام متحدہ
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔