لاہور ہائیکورٹ نے27 ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہور ہائیکورٹ میں 27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے دوران شہری حسان لطیف نے اپنی درخواست واپس لے لی، جسٹس چوہدری اقبال نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر اسے نمٹا دیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نصر احمد نے عدالت کو بتایا کہ 27 ویں آئینی ترمیم میں مزید تبدیلیاں زیرِ غور ہیں لہٰذا یہ درخواست قبل از وقت ہے اور ممکن ہے کہ تبدیلیوں کے بعد درخواست گزار کے اعتراضات ختم ہو جائیں۔
عدالت نے استفسار کیا کہ کیا درخواست گزار درخواست واپس لینا چاہتا ہے؟ جس پر درخواست گزار کے وکیل ایڈووکیٹ مقسط سلیم نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ فی الحال درخواست واپس لے رہے ہیں تاہم اگر مستقبل میں 27ویں ترمیم سے مطمئن نہ ہوئے تو دوبارہ چیلنج کریں گے۔
اسلام آباد: ڈسٹرکٹ کورٹس کمپلیکس کی سکیورٹی بڑھانے کا فیصلہ
جسٹس چوہدری اقبال نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر اسے نمٹا دیا اور کہا کہ درخواست گزار چاہے تو دوبارہ نئی درخواست دائر کر سکتا ہے۔
درخواست میں وزیراعظم، سپیکر قومی اسمبلی اور وزارتِ قانون کو فریق بنایا گیا تھا۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے تحت سپریم کورٹ کے اختیارات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کرنے اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف کو تاحیات استثنیٰ دینے کی تجاویز آئین کی اصل روح سے متصادم ہیں لہٰذا عدالت ترمیم کو آئین کے منافی قرار دے کر کالعدم قرار دے۔
سرگودھا ضمنی انتخاب؛مڈھانہ گروپ کا حکومتی امیدوار میاں سلطان علی رانجھا کی حمایت کا باضابطہ اعلان
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: درخواست واپس درخواست گزار
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔