27ویں آئینی ترمیم لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج،وزیراعظم سمیت دیگرفریق
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
لاہور(نیوزدیسک) 27 ویں آئینی ترمیم 2025 کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا، درخواست میں وزیراعظم کو بذریعہ سیکرٹری سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ میں دی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم اسلامی تعلیمات اور آئین پاکستان کے خلاف ہے ،صوبوں کی مشاورت کے بغیر ترمیم سے آئینی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے۔
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ترمیم کے تحت استثنیٰ آئین کے بنیادی آئین کے ہی خلاف ہے، ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ کے اختیارات میں کمی کی کوشش کی گئی ہے جب کہ ترمیم سے عدالتی اختیارات کم کر کے عدالتی آزادی کو خطرے میں ڈال دیا گیا۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت مقدمات کی آئینی عدالت منتقلی کو کالعدم قرار دے، 27 ویں آئینی ترمیم کی شقوں کو ماورائے آئین قرار دیتے ہوئے کالعدم دیا جائے۔
واضح رہے کہ سینیٹ میں جے یو آئی (ف) کے سینیٹر احمد خان اور تحریک انصاف کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو کے ووٹ کی بدولت حکومت دو تہائی اکثریت سے 27 ویں آئینی ترمیم 2025 کا بل منظور کرانے میں کامیاب ہوگئی تھی۔
پی ٹی آئی کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے پارٹی کی ہدایت کے خلاف ووٹ دینے کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا جب کہ جے یو آئی (ف) نے احمد خان کو پارٹی سے نکال دیا تھا۔
27 ویں آئینی ترمیم قومی اسمبلی میں پیش کردی گئی ہے جس کی جلد منظوری کا امکان ہے۔ ترمیم کے بل کی منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے، جو حکومتی اتحاد کے پاس موجود ہے جب کہ حزب اختلاف کے پاس محدود تعداد میں ارکان ہیں۔
حکومتی اتحاد میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم پاکستان، پاکستان مسلم لیگ (ق)، استحکام پاکستان پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ضیا)، بلوچستان عوامی پارٹی اور نیشنل پیپلز پارٹی شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ویں ا ئینی ترمیم
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔