لاہور ہائیکورٹ: جسٹس فاروق حیدر نے ڈکی بھائی کی ضمانت کی سماعت سے معذرت کر لی
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے معروف یوٹیوبر سعد الرحمان عرف ڈکی بھائی کی درخواستِ ضمانت کی سماعت سے معذرت کرلی۔
ڈکی بھائی کی جانب سے دائر درخواست ضمانت پر متوقع سماعت اس وقت مؤخر ہوگئی جب جسٹس فاروق حیدر نے مقدمے کی سماعت سے معذرت کرلی۔
یہ بھی پڑھیں: ڈکی بھائی کی تحقیقات کرنے والے 7 گرفتار افسران مستعفی
عدالتی کارروائی کے دوران جسٹس فاروق حیدر نے کیس کی فائل چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو بھجوا دی، تاکہ وہ درخواستِ ضمانت کو کسی اور بینچ کے سامنے مقرر کر سکیں۔
عدالت کے نوٹ میں کہا گیا کہ چیف جسٹس اس درخواست کو مناسب بینچ کے روبرو مقرر کریں۔
مزید پڑھیں: ریلیف کے بدلے 90 لاکھ کی رشوت، ڈکی بھائی کی اہلیہ کی شکایت پر این سی سی آئی اے کے اہم افسران گرفتار
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے درج مقدمے میں یوٹیوبر ڈکی بھائی پر جوئے کی ایک موبائل ایپ کی پروموشن کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، ایجنسی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ڈکی بھائی نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس ایپ کی تشہیر کر کے آن لائن جوئے کی حوصلہ افزائی کی۔
مزید پڑھیں:ڈکی بھائی سے ڈیڑھ کروڑ روپے رشوت لی گئی، رشوت کس نے اور کیسے لی، سینیئر صحافی کے اہم انکشافات
استغاثے کے مطابق ڈکی بھائی کا مذکورہ عمل سائبر کرائم ایکٹ کے قانون کے تحت جرم کے زمرے میں آتا ہے۔
دوسری جانب ڈکی بھائی کی قانونی ٹیم کا کہنا ہے کہ ان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور وہ عدالت کے روبرو اپنی بے گناہی ثابت کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انویسٹی گیشن ایجنسی جسٹس فاروق حیدر ڈکی بھائی سائبر کرائم ایکٹ سعد الرحمان لاہور ہائیکورٹ نیشنل سائبر کرائم یوٹیوبر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انویسٹی گیشن ایجنسی جسٹس فاروق حیدر ڈکی بھائی سائبر کرائم ایکٹ سعد الرحمان لاہور ہائیکورٹ یوٹیوبر جسٹس فاروق حیدر نے لاہور ہائیکورٹ ڈکی بھائی کی
پڑھیں:
سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
---فائل فوٹواسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔
سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔