وفاقی آئینی عدالت کے ججز کے نام منظرِ عام پر آگئے
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
اسلام آباد(صغیر چوہدری ) 27 آئینی ترمیم کی روشنی میں وفاقی آئینی عدالت (FCC) کے ججز کے نام سامنے آگئے ہیں ذرائع کے مطابق جسٹس امین الدین خان وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس ہوں گے ساتھ رکنی آئینی عدالت کے دیگر چار ججز بھی سپریم کورٹ سے لئے گئے ہئں جن میں جسٹس سید حسن اظہر رضوی جسٹس مسرت ہلالی جسٹس عامر فاروق جسٹس علی باقر نجفی جبکہ سندھ ہائی کورٹ سے جسٹس کے کے آغا اور بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس روزی خان کے نام سامنے آئے ہیں ۔وفاقی آئینی عدالت سپریم کورٹ کی بجائے الگ بلڈنگ میں منتقل کی جائے گی جسکے لئے وفاقی شرعی عدالت کی عمارت کا انتخاب کیا گیا ہے اور شرعی عدالت کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے تھرڈ فلور پر منتقل کردیا گیا ہے
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وفاقی آئینی عدالت
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔