Daily Mumtaz:
2026-07-24@08:25:15 GMT

فارم 47 نہ ہی اسٹیبلشمنٹ سے کوئی بات چیت ہوگی، عمران خان

اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT

فارم 47 نہ ہی اسٹیبلشمنٹ سے کوئی بات چیت ہوگی، عمران خان

راولپنڈی:(نیوز ڈیسک )پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے کہا ہے کہ فارم 47 یا اسٹیبلشمنٹ سے کسی قسم کی بات چیت نہیں ہوگی تاہم جو بھی بات ہوگی وہ اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے ذریعے ہوگی۔

بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے بعد ڈاکٹر عظمیٰ خان نے علیمہ خان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو جتنی اپڈیٹ دے سکتی تھی دے دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بانی نے کہا ہے فارم 47 کی حکومت سے کیا مذاکرات ہوسکتے ہیں، جب وزیراعظم کی جانب سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو بتایا گیا کہ پوچھ کے بتاؤں گا تو پھر پیچھے کیا رہ گیا، بانی نے کہا ہے ان کے ساتھ بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

ڈاکٹر عظمیٰ خان کے مطابق بانی نے کہا تین سال ہونے کو ہے مجھ پر سختیاں کررہے ہیں، بانی نے کہا جب بھی اسٹیبلشمنٹ سے بات کی یہ پی ٹی آئی پر اور زیادہ ظلم کرتے ہیں اور سارا کنٹرول فرد واحد کے پاس ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بانی نے کہا جتنا ظلم اس دور میں ہوا اتنا کبھی نہیں ہوا، بانی نے کہا ڈاکٹر یاسمین راشد کینسر کی مریضہ ہیں، جیل میں رکھا گیا ہے، بشریٰ بی بی کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ جس نے پی ٹی آئی نہیں چھوڑی اس پر ظلم ہوا، بانی نے کہا نہ فارم 47 اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ سے کسی قسم کی کوئی بات چیت ہوگی، بانی نے کہا ہے جو بھی بات ہوگی وہ محمود خان اچکزئی کے ذریعے ہوگی، محمود خان اچکزئی اتحاد کے سربراہ ہیں لہٰذا اتحاد کے ذریعے ہی بات چیت ہوگی۔

ڈاکٹر عظمیٰ خان کا کہنا تھا کہ بانی نے کہا پاکستان کی تاریخ میں کسی سیاسی قیدی کو ایسے نہیں رکھا گیا جس طرح انہیں رکھا گیا ہے، آزادی یا موت کے علاوہ کوئی غلامی قبول نہیں کروں گا۔

بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے سلمان اکرم راجا پر انہیں مکمل اعتماد ہے، بانی نے کہا صرف سلمان اکرم راجا کے ذریعے پارٹی کو پیغام دیا جائے گا۔

عمران خان

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اسٹیبلشمنٹ سے بانی نے کہا پی ٹی ا ئی نے کہا ہے کے ذریعے رکھا گیا بات چیت فارم 47

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم