---فائل فوٹو 

لاہور ہائی کورٹ نے اسموگ کے تدارک سے متعلق درخواستوں پر سماعت کے دوران پنجاب میں ہیوی ٹریفک کا آج سے ہی معائنہ کرنے کا حکم دے دیا۔ 

لاہور ہائی کورٹ میں اسموگ کے تدارک سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی۔

ممبر جوڈیشل کمیشن نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ہیوی ٹریفک کی مانیٹرنگ کا کوئی مناسب نظام موجود نہیں، رات 11 بجے کے بعد بہت زیادہ ہیوی ٹریفک شہر میں چلتی ہے، آر ٹی او کا کہنا کے کہ اسٹاف کی کمی ہے۔

ممبر جوڈیشل کمیشن نے بتایا کہ 46 مقامات پر ٹریفک پولیس کا عملہ تعینات ہے، آج سے انہوں نے آپریشن شروع کرنا ہے۔

عدالت نے اپنے ریمارکس کہا کہ اگر ہیوی ٹریفک کے معائنے کا کام فروری سے شروع کیا ہوتا تو آج صورتحال بہت بہتر ہوتی، آپ لوگوں نے کام اکتوبر میں شروع کیا۔

 عدالت نے مزید کہا کہ آپ کی اسسٹنس بہت اچھی رہی، وہ قابل ستائش ہے، جوڈیشل کمیشن ممبران ان پوائنٹس کو وزٹ کریں، اگر یہ کام فروری سے شروع کیا ہوتا تو صورتحال بہت بہتر ہوتی، ہر سال اکتوبر میں آ کر وہی بات دہرائی جاتی ہے، مجھے فروری مارچ سے آگے کا پلان شیئر کریں، بدھ کو رپورٹ داخل کروائیں کہ کیا کام ہو رہا ہے، جب تک گاڑیوں کو چیک نہیں کریں گے چیزیں بہتر نہیں ہوں گی۔

بعد ازاں عدالت نے اگلی سماعت پر رپورٹ جمع کروانےکا حکم دیتے ہوئے سماعت 12 نومبر تک ملتوی کردی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: ہیوی ٹریفک

پڑھیں:

کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے

کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔ 

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ 

مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔

جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع