سندھ ہائیکورٹ سکھر بینچ میں صحت سہولیات کی کمی پر سماعت
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سکھر (نمائندہ جسارت) سندھ ہائی کورٹ بینچ میں صحت سہولیات کی عدم فراہمی اور اربوں روپے کی ادویات کی خریداری میں کرپشن کیس کی سماعت — چیف سیکرٹری کی غیرحاضری پر عدالت کا اظہارِ برہمی، سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ میں صحت سہولیات کی کمی اور اربوں روپے مالیت کی ادویات کی خریداری میں مبینہ کرپشن سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے چیف سیکرٹری سندھ کی غیرحاضری پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ‘‘چیف سیکریٹری کے لیے عدالت سے زیادہ اہم مصروفیات کون سی ہوسکتی ہیں؟ کیا وہ نہیں جانتے کہ عدالت نے انہیں طلب کیا ہے؟ کیا ان کے خلاف آرڈر پاس کرکے انہیں عدالت کے اختیارات سے آگاہ کیا جائے۔ سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ کے جسٹس ذوالفقار علی سانگی اور جسٹس ریاضت علی پر مشتمل ڈبل بینچ نے ایڈووکیٹ شبیر شر کی درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران سیکریٹری صحت سندھ ریحان بلوچ، ڈی جی ہیلتھ، ڈی جی پروکیورمنٹ سمیت مختلف اضلاع کے ڈی ایچ اوز اور دیگر متعلقہ افسران عدالت میں پیش نہ ہوئے۔عدالت نے سماعت کے آغاز پر چیف سیکریٹری سندھ کی عدم حاضری پر استفسار کیا تو عدالت کو بتایا گیا کہ وہ مصروف ہیں جس پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔۔سماعت کے دوران فریقین کے وکلا نے اپنے دلائل مکمل کیے، جس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا جو بعد میں سنایا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔