کراچی ، حیدرآباد میں چڑیا گھر ختم،قدرتی ماحول میں نیشنل پارک بنائیں: سندھ ہائیکورٹ
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
کراچی (نیوز ڈیسک)سندھ ہائی کورٹ میں کراچی چڑیا گھر سے مادہ ریچھ رانو کی منتقلی کے کیس کی سماعت ہوئی۔ دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل نے انکشاف کیا کہ چڑیا گھر میں ویٹنری ڈاکٹر کا کمرہ اسٹور کے طور پر استعمال ہو رہا ہے، ایکسرے مشین خراب ہے، آپریشن تھیٹر ناقابلِ استعمال ہے، جبکہ جانوروں کو بے ہوش کرنے یا خون کے نمونے لینے کا بھی کوئی نظام موجود نہیں ہے۔
عدالت نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا کہ جانوروں کی صحت اور بہتری کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کراچی اور حیدرآباد میں بتدریج چڑیا گھر ختم کر کے قدرتی ماحول میں نیشنل پارک بنائیں۔ اس طرح کا چڑیا گھر نہیں چل سکتا، چھوٹے چھوٹے پنجروں میں جانوروں کو قید رکھنا ظلم ہے۔
عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ آپ کا مقصد جانوروں کی فلاح ہونا چاہیے، نا کہ صرف ٹکٹ لگا کر تماشہ دکھانا۔عدالت نے ہدایت کی کہ کراچی چڑیا گھر میں ویک اینڈ کے علاوہ عوامی تماشا بند کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: چڑیا گھر
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔