27 ویں ترمیم کی حمایت کرنے والے سیف اللہ آبڑو کون ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
سیف اللہ آبڑو ایک پاکستانی سیاست دان ہیں، ان کا تعلق لاڑکانہ سے ہے۔ مارچ 2021 سے وہ صوبہ سندھ سے سینیٹ آف پاکستان کے رکن کے طور پر منتخب ہوئے۔
سیف اللہ آبڑو کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے تھا۔ حالیہ خبروں کے مطابق انہوں نے 27 ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا ہے جبکہ ان کی جماعت (پی ٹی آئی) نے بائیکاٹ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی نااہلی کے لیے ریفرنس الیکشن کمیشن کو ارسال
انہوں نے اپنی سینیٹ کی نشست سے استعفیٰ کا اعلان بھی کیا ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے پاک فوج کی وجہ سے ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔ اس واقعے کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے انہیں پارلیمانی پارٹی کے واٹس ایپ گروپ سے بھی نکال دیا ہے۔
سینیٹر منتخب ہونے سے قبل سیف اللہ آبڑو ایک پیشہ ور انجینئر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر کے طور پر کام کرتے تھے۔ انہوں نے 1991 میں مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، جامشورو سے بی ای (سول انجینئرنگ) کی ڈگری حاصل کی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی نااہلی کے لیے ریفرنس الیکشن کمیشن کو ارسال
سیف اللہ آبڑو ٹیکنوکریٹس کی نشست پر منتخب ہوئے۔ اس نشست کے لیے انہیں اپنے شعبے میں 20 سال سے زائد کا تجربہ درکار ہوتا ہے۔ وہ قلندر بخش آبڑو اینڈ کمپنی کے تحت ملک کے مختلف شہروں میں کئی فلائی اوورز اور دیگر بڑے تعمیراتی منصوبوں میں شامل رہے ہیں۔
مارچ 2021 سے مارچ 2027 تک وہ سینیٹ کے رکن رہیں گے۔ سینیٹ میں وہ صوبہ سندھ سے ٹیکنوکریٹس بشمول علما کی نشست پر منتخب ہوئے۔ اقتصادی امور کی سینیٹ قائمہ کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ مواصلات، ہاؤسنگ اینڈ ورکس، پیٹرولیم، اور داخلہ و نارکوٹکس کنٹرول کی کمیٹیوں کے بھی رکن رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا شوکاز نوٹس مسترد کرتا ہوں، سینیٹر سیف اللہ ابڑو
ان کے سینیٹر بننے کے بعد ان کی اہلیت کو چیلنج کیا گیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے ٹیکنوکریٹ کی نشست کے لیے درکار 20 سال کے تجربے کو ثابت کرنے کے لیے جعلی دستاویزات جمع کرائیں اور اپنی آمدنی ظاہر نہیں کی۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اس نااہلی کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
27ویں ترمیم we news پی ٹی آئی سیف اللہ ابڑو سینیٹر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 27ویں ترمیم پی ٹی ا ئی سیف اللہ ابڑو سینیٹر سیف اللہ آبڑو سیف اللہ ابڑو پی ٹی ا ئی انہوں نے کی نشست کے لیے
پڑھیں:
ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟
سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔
یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔
مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔
تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔
تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر