Al Qamar Online:
2026-07-24@07:21:51 GMT

عوامی طاقت سے27ویں آئینی ترمیم ختم کردینگے،بیرسٹر گوہر

اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT

عوامی طاقت سے27ویں آئینی ترمیم ختم کردینگے،بیرسٹر گوہر

اسلام آباد: پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے27ویں آئینی ترمیم کے خاتمے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کی بھی ایک عدالت ہے، عوامی طاقت سے ہم یہ ترمیم ختم کریں گے۔

 انہوں نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جلدی میں ترامیم منظور کراکے آئین اور جمہوریت کی کشتی کوڈبو دیا گیا۔ عوامی طاقت سے ہم یہ ترامیم ریورس کریں گے، یہ آصف زرداری ، عارف علوی یا کسی اور کا نہیں بلکہ ریاست کا معاملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کی بھی ایک عدالت ہے، ایوان میں بیٹھ کر فیصلے ذاتی مفاد میں نہیں کیے جاتے ، ان ترامیم کو عوامی طاقت سے ختم کریں گے۔

یاد رہے قومی اسمبلی نے 2 تہائی اکثریت سے 27ویں آئینی ترمیم منظور کر لی۔ حکمران اتحاد نے اضافی ترامیم کے ساتھ 27 ویں آئینی ترمیم قومی اسمبلی سے منظور کروا لی۔

27ویں آئینی ترمیم کے حق میں 234ارکین نے ووٹ دیا، 4 اراکین نے آئینی ترمیم کی مخالفت میں ووٹ دیا۔27ویں آئینی ترمیم میں سینیٹ سے منظور ترمیم کو اضافی ترامیم کے ساتھ قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔

 وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 6 اضافی ترامیم پیش کیں، قومی اسمبلی نے دو تہائی اکثریت سے 59 ترامیم کی شق وار منظوری دی۔

 قومی اسمبلی سے اضافی ترامیم کی منظوری پر بل کو دوبارہ سینیٹ کو بھجوایا جائے گا۔ بتایا گیا ہے کہ حکومت نے 27ویں آئینی ترمیمی بل میں مزید ترامیم شامل کرنے کا بھی فیصلہ کیا، جس کے نتیجے میں 27ویں آئینی ترمیم میں اضافی ترامیم قومی اسمبلی میں پیش کی جائیں گی۔

 اس حوالے سے حکومت اور اپوزیشن کی اضافی ترامیم الگ فہرست میں موجود ہیں، قومی اسمبلی سے اضافی ترامیم کی منظوری پر بل کو دوبارہ سینیٹ کو بھجوایا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل 27ویں آئینی ترمیم عوامی طاقت سے اضافی ترامیم قومی اسمبلی

پڑھیں:

مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش

عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے  آیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے  فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔ 

انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں  زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔

بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے  مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین  تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر  رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن