27ویں آئینی ترمیم، تینوں مسلح افواج کے سربراہان کی مراعات اور وردی تاحیات ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
حکومت قومی اسمبلی سے بھی 27ویں آئینی ترمیم kw دو تہائی اکثریت کے ساتھ منظور کروانے میں کامیاب ہوگئی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم کے تحت جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم ہوجائے گا جبکہ چیف آف آرمی اسٹاف کمانڈر آف ڈیفنس فورسز کہلائیں گے۔
ترمیم کے تحت فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئر فورس اور ایڈمرل آف فلیٹ قومی ہیروز ہوں گے۔ فیلڈ مارشل ، مارشل آف ایئر فورس اور ایڈمرل آف فلیٹ کا عہدہ تاحیات اور باوردی ہوگا جبکہ کمان کی مدت ختم ہونے پر ذمہ داریوں کا تعین وفاقی حکومت کرے گی۔
ترمیم کے تحت صدر مملکت وزیراعظم کے سفارش پر ایئر چیف اور نیول چیف کی طرح چیف آف آرمی اسٹاف کا تقرر کرینگے جو کمانڈر آف ڈیفنس فورسز بھی ہوں گے۔
آئینی ترمیم میں آرٹیکل243کی شق 4کے بعد 5،6،7،8،9،10،11 کے نام اضافی شقوں کا اضافہ کیا گیا۔
آئینی ترمیم میں شامل شق 5 کے تحت جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ 27نومبر 2025 سے ختم تصور کیا جائیگا جبکہ شق 6 کے تحت کمانڈ ر نیشنل اسٹیریٹجک کمانڈر کے نام سے نئے عہدے کو شامل کیا گیا۔
نیشنل اسٹریٹجک کمانڈر کا تقرر پاکستان آرمی کے ارکان میں سے ہوگا، جس کی تنخواہ الاوٴنسز مقرر کی جائینگی۔
آرٹیکل 243 میں مجوزہ طور پر شامل کی گئی نئی شق 7 کے تحت وفاقی حکومت جن فوجی افسر فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئر فورس اور ایڈمرل فلیٹ کے رینک پرترقی دے گی ان کا یونیفارم اور مراعات تاحیات رہیں گی۔
شق 8 میں ترمیم کے تحت فیلڈ مارشل ایئر مارشل اور ایڈمرل چیف قومی ہیروز تصور ہونگے جنہیں آئین کے آرٹیکل 47کے بغیر نہیں ہٹایا جا سکے گا۔
آئینی ترمیم کے شق9 کے تحت آرٹیکل 248 کی دفعات، جیسا کہ صدر پر لاگو ہوتی ہیں، فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئر فورس اور ایڈمرل آف فلیٹ پر لاگو ہوں گی جبکہ آرٹیکل 243 کی شق 10 کے تحت اپنی کمان کی مدت پوری ہونے پر قانون کے تحت وفاقی حکومت ریاست کے مفاد میں فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئر فورس یا ایڈمرل آف فلیٹ کی ذمہ داریوں اور فرائض کا تعین کرے گی اور شق 11میں صدر، وزیراعظم کے سفارش پر فیلڈ مارشل، ایئر فورس کے مارشل اور فلیٹ کے ایڈمرل کی تنخواہوں، الاوٴنسز اور مراعات کا تعین کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مارشل آف ایئر فورس ترمیم کے تحت فیلڈ مارشل اور ایڈمرل چیف آف
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بجٹ سے چند روز قبل ہی آئینی عدالت سے حکومت کو ریونیو کی مد میں بڑا جھٹکا، وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی۔
نجی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے غیر رجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31 اے میں ابہام ہے، حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا، اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں، قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں مزید لکھا کہ رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی۔
وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا۔ پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔
ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان
مزید :