232 سال بعد امریکا میں کرنسی قوانین میں تبدیلی پر عملدرآمد
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا میں 232 سال بعد ایک سینٹ کے سکے (پینی) کی تیاری بند کر دی گئی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی ٹریژری نے اعلان کیا کہ اب پینی کا مزید اجراء نہیں کیا جائے گا، جس کے نتیجے میں ریٹیلرز اور صارفین کو نقدی لین دین میں مشکلات کا سامنا ہو رہا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے کا مقصد مینوفیکچرنگ لاگت میں کمی اور اخراجات کی بچت بتایا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اسٹورز، پیٹرول پمپ اور فاسٹ فوڈ چینز اب صارفین سے درست تبدیلی لانے یا ڈیجیٹل ادائیگیوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ کئی بڑی کمپنیوں جیسے والمارٹ، ٹارگٹ اور کروگر نے بھی اس سلسلے میں صارفین کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ ادائیگی کے لیے کریڈٹ/ڈیبٹ کارڈ یا موبائل پیمنٹس استعمال کریں۔
پینی کے اجراء کی بندش کا مقصد چھوٹے سکے بنانے پر آنے والی لاگت کو کم کرنا اور موجودہ کرنسی سسٹم کو زیادہ موثر بنانا بتایا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔