data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سان فرانسسکو: گوگل نے انٹرنیٹ صارفین کو خبردار کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں سیکورٹی ٹولز اور وی پی این کے نام پر سامنے آنے والی متعدد ایپس دراصل خطرناک سائبر دھوکے بازی کا حصہ ہیں۔

ٹیکنالوجی کمپنی کے مطابق کئی ایپس ایسی ہیں جو خود کو محفوظ وی پی این یا سیکورٹی ایپ کے طور پر ظاہر کرتی ہیں، مگر دراصل وہ صارفین کے حساس ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے کے لیے بنائی گئی ہیں۔ گوگل کی جانب سے جاری تازہ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ان جعلی ایپس میں ریموٹ ایکسس ٹروجنز اور بینکنگ ٹروجنز جیسے خطرناک وائرس شامل ہوتے ہیں جو صارف کے موبائل فون یا کمپیوٹر کو مکمل طور پر متاثر کرسکتے ہیں۔

گوگل نے وضاحت کی ہے کہ ان ایپس کا خطرہ صرف غیر معروف یا غیر مستند ایپ اسٹورز تک محدود نہیں، بلکہ بعض اوقات یہ جعلی ایپس سرکاری پلیٹ فارمز پر بھی موجود ہوسکتی ہیں۔ اس لیے صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی وی پی این یا سیکورٹی ایپ کو انسٹال کرنے سے پہلے اس کی تفصیلات، ریویوز اور ڈویلپر کے پس منظر کو لازمی جانچیں۔

کمپنی نے بتایا کہ کچھ ایپس بظاہر وی پی این کے تمام عمومی فرائض انجام دیتی ہیں لیکن درپردہ صارف کی براؤزنگ ہسٹری، بینکنگ تفصیلات، ذاتی پیغامات، تصاویر اور حتیٰ کہ کریپٹو کرنسی والٹس تک رسائی حاصل کرلیتی ہیں۔

سائبر سیکورٹی ماہرین کے مطابق ایسے جعلی وی پی اینز کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ وہ صارف سے غیر ضروری اجازتیں طلب کرتے ہیں، مثلاً مائیکروفون، کیمرا یا کانٹیکٹس تک رسائی۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایسی اجازتیں دینے کا مطلب خود اپنے ڈیٹا کو غیر محفوظ ہاتھوں میں دینا ہے۔

گوگل نے اس خطرے کے تدارک کے لیے ایک نیا اقدام بھی متعارف کرایا ہے۔ کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ اب “VPN Verified” کے نام سے ایک خصوصی بیج شامل کیا جائے گا، جو صرف ان ایپس کو دیا جائے گا جو گوگل کے حفاظتی معیارات پر مکمل طور پر پورا اترتی ہیں۔ یہ بیج صارفین کو اس بات کا یقین دلائے گا کہ وہ ایک محفوظ اور تصدیق شدہ وی پی این سروس استعمال کر رہے ہیں۔

گوگل نے واضح ہدایت دی ہے کہ وی پی این یا سیکورٹی ٹولز صرف معتبر اور سرکاری ذرائع سے ہی ڈاؤن لوڈ کیے جائیں۔ کسی بھی غیر رسمی یا مشکوک ویب سائٹ سے ایپ انسٹال کرنا اپنے ڈیٹا اور مالی معلومات کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

کمپنی نے صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ انٹرنیٹ سیکورٹی کے بنیادی اصولوں پر عمل کریں، جیسے اپ ڈیٹڈ اینٹی وائرس کا استعمال، دوہری توثیق (Two-Factor Authentication) کو فعال رکھنا اور مشکوک ایپلیکیشنز سے ہر ممکن حد تک گریز کرنا۔

تنویر انجم.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: صارفین کو گوگل نے

پڑھیں:

افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 

کراچی (سٹاف رپورٹر) جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں افغان شہریوں کے لیے مبینہ طور پر جعلی شناختی دستاویزات تیار کرنے کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ ایف آئی اے نے مقدمے میں گرفتار چار ملزم انعام الحق، فیاض احمد سانگی، جنید اور محمد عمر کو عدالت میں پیش کیا۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم افغان شہریوں کے لیے جعلی شناختی دستاویزات بنانے کی غرض سے سرکاری ریکارڈ میں رد و بدل کرتے تھے۔ عدالت نے  ملزموںکو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا۔

متعلقہ مضامین

  • ABN نیوز نے مبینہ جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل