گوگل نےگوگل فوٹوز میں جدید اے آئی فیچرز متعارف کرادیے
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
نیویارک (ویب ڈیسک)گوگل نے اپنی مشہور ایپ گوگل فوٹوز میں جدید اے آئی فیچرز متعارف کرادیے ہیں، جن کی مدد سے تصاویر کو بہتر بنانا اور ان میں موجود اشخاص یا اشیا کو تبدیل کرنا آسان ہو گیا ہے۔
ٹیکنالوجی ویب سائٹ کے مطابق گوگل فوٹوز میں صارفین کے تجربے کو مزید بہتر بنانے کے لیے نئے اے آئی فیچرز شامل کیے گئے ہیں اور اب دنیا کے 100 سے زائد ممالک میں اے آئی کی مدد سے تصاویر تلاش کرنے کی سہولت بھی دستیاب ہو گئی ہے۔
اے آئی ایڈیٹنگ فیچر کی مدد سے صارفین اپنی تصاویر میں موجود اشخاص یا اشیا (objects) کو تبدیل یا بہتر بنا سکتے ہیں، جیسے چشمے ہٹانا، مسکان بڑھانا یا آنکھیں کھولنا وغیرہ۔
اس کے علاوہ ایک نیا بٹن ’آسک‘ بھی متعارف کروایا گیا ہے، جس کے ذریعے صارف تصویر کے متعلق سوال پوچھ سکتا ہے، تجاویز حاصل کر سکتا ہے یا اس کی ایڈیٹنگ کی درخواست دے سکتا ہے۔
ایپ میں اے آئی ٹیمپلیٹس بھی شامل کیے گئے ہیں، جن کی مدد سے تصاویر کو مختلف انداز میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، جیسے قدیم پورٹریٹ یا کارٹون اسٹائل۔
سرچ فیچر کو 100 سے زائد ممالک تک پھیلایا گیا ہے اور اب 17 سے زائد نئی زبانیں بھی معاونت کر رہی ہیں، جن میں عربی، ہندی، بنگالی اور پرتگالی شامل ہیں۔
یہ فیچرز صارفین کو تصویر میں اپنے پوز اور اسٹائل کو بہتر بنانے اور اپنے خدوخال کو زیادہ خوبصورت بنانے میں مدد دیتے ہیں۔
یہ فیچرز صرف تفریح یا سوشل میڈیا کے لیے نہیں ہیں، بلکہ یادوں کی قدر بڑھانے اور تصاویر کو مزید پیشہ وارانہ انداز دینے میں بھی مددگار ہیں۔
چونکہ یہ فیچرز مرحلہ وار دستیاب ہو رہے ہیں، اس لیے ممکن ہے کہ پاکستان میں ابھی تک سب صارفین کے لیے دستیاب نہ ہوں، اس لیے ایپ کی اپ ڈیٹس چیک کرتے رہنا ضروری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کی مدد سے سکتا ہے اے ا ئی
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔