Jasarat News:
2026-07-24@05:28:35 GMT

دہلی و اسلام آباد کے زخم: پس ِ پردہ کون ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251113-03-3
پچھلے دو روزہ واقعات نے جنوبی ایشیا کو ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا کر دیا ہے جہاں ہر واقعہ محض ایک بم یا شعلہ نہیں بلکہ وسیع الجہت سیاسی، عسکری اور سفارتی گردشوں کا نتیجہ بنتا محسوس ہوتا ہے۔ 10 نومبر بروز پیر نئی دہلی کے لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے قریب کار دھماکے میں کئی شہری ہلاک ہو گئے، اور اس کے اگلے ہی دن 11 نومبر کو اسلام آباد کے ضلعِ کچہری کے قریب ہونے والے دھماکے میں متعدد افراد شہید و زخمی ہوئے یہ واقعات وقت، مقام اور نوعیت کے اعتبار سے بیک وقت وقوع پذیر ہو کر نہ صرف دونوں دارالحکومتوں کے عوام میں خوف و اضطراب پیدا کر رہے ہیں بلکہ خطے کی خراب ہوتی ہوئی سلامتی کی تصویر کو بھی واضح کر رہے ہیں۔ پہلا سوال جو ہر ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ کس کا ہاتھ ہے؟ ابتدائی انٹیلی جنس اور میڈیا رپورٹس میں اسلام آباد دھماکے سے قبل افغانستان سے مشابہ نوعیت کی سوشل میڈیا پوسٹس کا حوالہ دیا گیا بعض اکاؤنٹس پر ’Coming soon Islamabad‘ جیسے پیغامات منظر عام پر آئے، اور مختلف طالبان منسلک آن لائن پروفائلز نے دھمکی آمیز بیانات شایع کیے۔ اسی طرز کی اطلاعات اور تشویش نے پاکستان کی سرکاری قیادت کو اس نتیجے پر پہنچایا کہ واقعہ بیرونی عناصر یا بین الاقوامی روابط رکھنے والی پراکسی نیٹ ورکنگ کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔ تاہم فیکٹ اور الزام عائد کرنا دو الگ عمل ہیں فوجداری تحقیقات، سی سی ٹی وی، فورینزک تجزیہ اور بین الاقوامی انٹیلی جنس تعاون کے بغیر حتمی نتیجہ اخذ کرنا ممکن نہیں۔

تاریخی طور پر دیکھا جائے تو پاک بھارت تعلقات میں تشدد و پراکسی مداخلت کا سانچہ نیا نہیں۔ کشمیر، سرحدی جھڑپیں، اور متنازع عسکری حمایت کے الزامات نے کئی بار دونوں ملکوں کو عالمی سطح پر تنائو کے قریب پہنچایا ہے۔ مگر اس بار واقعات کی بیک وقت اور دارالحکومتوں کو ہدف بنائے جانا ایک مختلف اور خطرناک پیغام لیے ہوئے ہے کہ یہ محض علاقائی دہشت گردی کا عمل نہیں بلکہ معلوماتی اور نفسیاتی جنگ کی ایک کڑی بھی ہو سکتی ہے جس کا مقصد عوامی حوصلہ پست کرنا، داخلی سیاسی اجزاء کو کمزور کرنا اور دو ایٹمی قوتوں کے مابین سرد جنگ کو گرم تقابل میں تبدیل کرنا ہے۔ داخلی سیکورٹی کے تناظر میں پاکستان کو فوری طور پر تین سطحی حکمت ِ عملی اپنانے کی ضرورت ہے کہ؛ ۱۔ شہری سطح پر فوری حفاظتی اقدامات اور عدالتی مراکز، تعلیمی اداروں و عوامی جگہوں کی سخت حفاظت؛ ۲، انٹیلی جنس شیئرنگ کے تقاضے پورے کر کے افغانستان اور دیگر ملکوں کے ساتھ بین الاقوامی تعاون؛ اور ۳۔ دہشت گردی کے بنیادی سبب یعنی عسکریت پسندی کی جڑوں کو ختم کرنے کے لیے طویل المدت سماجی و معاشی اصلاحات۔ صرف عسکری ردعمل ہی محدود کامیابی دلا سکتا ہے؛ اس کے بغیر پائیدار امن ناممکن رہے گا۔

بھارت کے لیے بھی تنبیہ واضح ہے کہ اگرچہ ہر ملک کو اپنے اندرونی سیکورٹی چیلنج درپیش ہوتے ہیں، مگر سرحد پار پراکسیز کے ذریعے اثراندازی یا کسی بھی شکل کی کارروائی خطے کی سلامتی کے لیے تیل پر آگ ڈالنے کے مترادف ہے۔ عالمی برادری نے ماضی میں متعدد مواقع پر اس خطے میں شواہد کی بنیاد پر ثالثی اور تحقیقات کی حمایت کی؛ موجودہ حالات میں شواہد کی شفاف پیشکاری، مشترکہ تحقیقات اور بین الاقوامی تفتیشی میکانزم کی شمولیت ہی تنازعے کو مزید بڑھنے سے روک سکتی ہے۔ معاشی و سماجی اثرات بھی شدت کے ساتھ سامنے آئیں گے۔ خوف و عدم استحکام سرمایہ کاری کو روکے گا، تجارت متاثر ہوگی، اور طویل المدت ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹیں پیدا ہوں گی۔ شہری عوام کا معمولی نقل و حرکت متاثر ہونا، تعلیمی اداروں کا عارضی بند ہونا، اور روزمرہ کی زندگی میں اضافہ شدہ حفاظتی لاگت ایک معاشی بوجھ کے طور پر ظاہر ہو گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر عوامی عزم کمزور پڑا اور خوف غالب آیا تو اس کا ثمر وہی ہوتا ہے جو دہشت گرد چاہتے ہیں کہ سماجی شقاق اور ریاستی کارکردگی میں کمی۔ بین الاقوامی سطح پر صورتحال کا تسلسل خاص طور پر خطرناک ہے کیونکہ دونوں اطراف کے ردعمل میں غلط فہمی یا تندی کسی بھی لمحے عملیاتی محاذ پر بدل سکتی ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں کا وجود کسی بھی محاذ آرائی کو محدود نہیں کرتا بلکہ اس کے خطرات کو ناقابل ِ تصور حد تک بڑھا دیتا ہے۔ اس لیے سفارتی چینلوں کو کھلا رکھنا، اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کے ذریعے جلد از جلد ثالثی کے راستے تلاش کرنا ضروری ہے تاکہ شورش کو قابو میں لایا جا سکے اور مستقبل میں باہمی اعتماد کے لیے ساختی اقدامات کیے جائیں۔

آخرکار، شواہد اور ذمے داری کی تصدیق کے لیے پیش کیے گئے تمام بیانات اور الزامات کو ایک آزاد، شفاف اور بین الاقوامی شراکت داروں کی موجودگی میں جانچا جانا چاہیے۔ حقائق سامنے آئیں گے تو مناسب قانونی اور سفارتی ردعمل ممکن ہوگا؛ مگر اس سے پہلے جو کام ہر شہری اور ہر ریاستی ادارے کر سکتا ہے وہ ہے ضبط ِ نفس، فوری طبی و امدادی کارروائی، اور وہ اجتماعی کوششیں جن سے دہشت گردی کے جڑواں مسائل عدم روزگار، سرحدی بے قاعدگیاں، اور انتہا پسندی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ بصورتِ دیگر، ایک چھوٹی سی چنگاری بڑے پیمانے پر بھڑک سکتی ہے اور دونوں ملکوں کے عوام، خطے کی معیشت اور بین الاقوامی امن بھاری قیمت چکا سکتے ہیں۔

سیف اللہ ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اور بین الاقوامی سکتی ہے کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن