وقت گزرنے سے کشمیریوں کے حق خودارادیت کو سلب نہیں کیا جا سکتا، ڈاکٹر فائی
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
ذرائع کے مطابق ڈاکٹر فائی 8 تا 9 نومبر 2025ء کو استنبول کی صباحتین زیم یونیورسٹی میں جسٹس ڈیفنڈرز سٹریٹیجک سٹڈیز سنٹر کے زیراہتمام نویں سالانہ بین الاقوامی کانگریس سے خطاب کر رہے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ورلڈ فورم فارپیس اینڈ جسٹس کے چیئرمین ڈاکٹر غلام نبی فائی نے کہا ہے کہ وقت گزرنے سے اقوام متحدہ کی طرف سے جموں و کشمیر کے عوام کو دیے گئے حق خودارادیت کو سلب نہیں کیا جا سکتا۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر فائی 8 تا 9 نومبر 2025ء کو استنبول کی صباحتین زیم یونیورسٹی میں جسٹس ڈیفنڈرز سٹریٹیجک سٹڈیز سنٹر کے زیراہتمام نویں سالانہ بین الاقوامی کانگریس سے خطاب کر رہے تھے۔ کانفرنس میں 14ممالک کے ماہرین تعلیم، سفارت کاروں، صحافیوں اور دانشورں نے شرکت کی۔ ڈاکٹر فائی نے”امن و انصاف کی جدوجہد میں بین الاقوامی تنازعات کے حل کے راستے: جنوبی ایشیا میں بحران کے حل کی تلاش” کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کی جدوجہد کی بنیاد مذہب پر نہیں بلکہ انصاف، امن اور اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج حق خودارادیت کے عالمی طور پر تسلیم شدہ بین الاقوامی اصولوں پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری جن دستاویزات پر بھروسہ کرتے ہیں وہ مساجد میں نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مغربی ممالک نے تیار کیے تھے۔ ڈاکٹر فائی نے بڑی عالمی طاقتوں کی منافقت کی مذمت کی جو اپنے مفاد کے اخلاقی اصولوں کی حمایت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ طاقتیں بعض خطوں میں انصاف کی حمایت کرتے ہیں لیکن بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مظالم پر خاموش رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ ناانصافی کے بیج بو کر انتہا پسندی کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ساڑھے سات دہائیاں گزرنے کے باوجود کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادیں قابل عمل ہیں کیونکہ وقت بین الاقوامی معاہدوں کو ختم نہیں کر سکتا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر وقت اقوام متحدہ کے کشمیر کے حوالے سے کیے گئے وعدوں کو کالعدم کر سکتا ہے تو پھر اقوام متحدہ کا چارٹر معنی ہی کھو دے گا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری میڈیا بلیک آئوٹ کو اجاگر کرتے ہوئے ڈاکٹر فائی نے کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی رپورٹوں کا حوالہ دیا کہ وہاں کا مقامی میڈیا تباہی کے دہانے پر ہے۔
انہوں نے جینوسائیڈ واچ کے ڈاکٹر گریگوری اسٹینٹن کا حوالہ دیا جنہوں نے خبردار کیا ہے کہ کشمیر نسل کشی کے دہانے پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا میڈیا کو دبانا اور شفافیت سے انکار مقبوضہ علاقے میں انسانیت کے خلاف اس کے جرائم کو چھپانے کی دانستہ کوشش ہے۔ ڈاکٹر فائی نے کہا کہ جدید مواصلات اور میڈیا کے ذریعے عالمی بیداری نے دنیا بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوسوو، مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان میں بین الاقوامی مداخلت ٹیلی ویژن پر دکھائے جانے والے مظالم پر عوامی غم و غصے کی وجہ سے ہوئی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر فائی نے بین الاقوامی اقوام متحدہ
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔