پاکستان کا بڑا اعزاز، سینکڑوں پاکستانی محققین دنیا کے ٹاپ سائنسدانوں میں شامل
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
پاکستان نے صحت، تعلیم، زراعت سمیت مختلف شعبوں میں نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے دنیا کے 2 فیصد سب سے زیادہ حوالہ دیے جانے والے سائنسدانوں کی فہرست میں کئی محققین کو شامل کروا لیا ہے۔
اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی سال 2024 کی فہرست کے مطابق پاکستان کی آغا خان یونیورسٹی، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (NUST)، کومسٹس یونیورسٹی اسلام آباد، بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی، عبدالولی خان یونیورسٹی مردان، قائداعظم یونیورسٹی، اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور سمیت دیگر یونیورسٹیوں کے متعدد اسکالرز اس فہرست میں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کا نیا ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ 31 جولائی کو خلا میں بھیجا جائے گا، اسپارکو
فہرست میں پاکستان کے اساتذہ کے ساتھ سابق طلبہ بھی شامل ہیں۔ شامل محققین کی تحقیق ترقی پذیر دنیا میں صحت، تعلیم اور دیگر اہم شعبوں کی ترقی میں معاون ثابت ہوئی ہے۔
یہ سالانہ فہرست دنیا کے معتبر عالمی معیار پر مبنی سمجھی جاتی ہے۔ فہرست میں ڈاکٹر ذوالفقار اے بھٹہ، ڈاکٹر سلیم ایس ویرانی، ڈاکٹر رومینہ اقبال اور ڈاکٹر جے کمار داس سمیت کئی نام شامل ہیں۔
ڈاکٹر سلیم ایس ویرانی کا مؤقفڈاکٹر سلیم ایس ویرانی نے کہا کہ ہمیشہ جدید تحقیقی سہولیات میں سرمایہ کاری کی گئی ہے اور معیار و جدت کے لیے دنیا کے سرکردہ اداروں کے ساتھ تعاون کو فروغ دیا گیا ہے۔
ٹاپ 2 فیصد میں شمولیت کا معیاریہ محققین یا تو کیریئر لائف ٹائم اثر (Career-Long Impact) یا ایک حالیہ سال کے اثر (Single Recent Year Impact) کی بنیاد پر دنیا کے ٹاپ 2 فیصد سائنسدانوں میں شامل کیے گئے ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار اے بھٹہپروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار اے بھٹہ آغا خان یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف ٹورنٹو (کینیڈا) سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا کام عالمی صحت (Global Health) اور زچہ و بچہ کی صحت (Maternal & Child Health) پر مرکوز ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی جعلی سائنسدان کا ایران کو ایٹمی منصوبہ فروخت کرنے کی کوشش کا انکشاف
انہوں نے زچہ و بچہ کی شرح اموات اور بیماریوں کو کم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور جنوبی ایشیا میں بچوں کی غذائیت کی کمی اور اس کے حل پر رہنمائی فراہم کی ہے۔ ان کی تحقیق WHO اور UNICEF سمیت دیگر عالمی اداروں کی پالیسیوں میں استعمال ہوتی ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر سلیم ایس ویرانی اور ڈاکٹر رومینہ اقبالپروفیسر ڈاکٹر سلیم ایس ویرانی ماہر امراض قلب ہیں اور ان کا کام دل کی بیماریوں کی روک تھام، خاص طور پر کولیسٹرول اور لپڈ مینجمنٹ پر مرکوز ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر رومینہ اقبال آغا خان یونیورسٹی سے تعلق رکھتی ہیں اور انہوں نے دل کی بیماریوں، ذیابیطس اور دیگر غیر متعدی بیماریوں پر جنوبی ایشیا میں خوراک اور جسمانی سرگرمی کے اثرات کا مطالعہ کیا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر جے کمار داس کا کام WHO اور دیگر عالمی تنظیموں کے لیے ماں اور بچے کی دیکھ بھال کی سفارشات کو تقویت دیتا ہے۔
سائنس اور ٹیکنالوجی میں پاکستانی تحقیقیہ فہرست صحت اور تعلیم تک محدود نہیں بلکہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے مختلف شعبے بھی شامل ہیں۔ نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) کے 43 محققین، یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کے متعدد محققین، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے 43 سائنسدان، پنجاب یونیورسٹی کے 42 سائنسدان، اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور کے 41 سائنسدان اور قائداعظم یونیورسٹی کے 40 سائنسدان اس فہرست میں شامل ہیں۔
آغا خان اور دیگر یونیورسٹیوں کے محققینآغا خان یونیورسٹی کے 25 سے زائد سائنسدان، کومسٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے متعدد محققین، بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے 22 سائنسدان اور عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے 20 سائنسدان بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔
تحقیقی معیار اور علاقائی شمولیتیہ درجہ بندی ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان میں زراعت، انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی میں تحقیق عالمی معیار کی ہے، جبکہ صحت اور میڈیکل سائنسز میں محققین کی شمولیت ترقی پذیر دنیا کے لیے اہم اثاثہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سائنسدانوں کا 60 سالوں سے زمین کے ساتھ محوِ سفر نیا ‘چاند’ دریافت کرنے کا دعویٰ، ناسا کی تصدیق
اس فہرست سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ تحقیقی ایکسیلنس کسی ایک شہر یا صوبے تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کے مختلف جامعات میں پھیلی ہوئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آغا خان یونیورسٹی اسٹینفورڈ یونیورسٹی بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی پاکستانی محقیقین سائنسدان کومسٹس یونیورسٹی نسٹ نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آغا خان یونیورسٹی اسٹینفورڈ یونیورسٹی بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی پاکستانی محقیقین کومسٹس یونیورسٹی نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈاکٹر سلیم ایس ویرانی آغا خان یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر یونیورسٹی آف یونیورسٹی کے فہرست میں شامل ہیں اس فہرست اور دیگر دنیا کے کے لیے
پڑھیں:
لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
فائل فوٹوڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن نےلاہور میں بلدیاتی الیکشن کی نئی حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی ہے، جن میں 159 یونین کونسلز کا اضافہ کیا گیا ہے۔
صوبائی دارالحکومت میں مجموعی طور پر 433 یونین کونسلز بنائی گئی ہیں، 2015 کے بلدیاتی الیکشن میں لاہور میں 274 یونین کونسلز تھیں۔
ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن لاہور کی ابتدائی فہرست کے مطابق راوی ٹاؤن 52، شالیمار میں 72، واہگہ ٹاؤن میں 25 یونین کونسل قائم کی گئی ہیں۔
ماڈل ٹاؤن میں 77، نشتر ٹاؤن میں 40 اور صدر کینٹ میں 29، رائے ونڈ سٹی میں 32، لاہور سٹی میں 69 اور علامہ اقبال ٹاؤن میں 37 یونین کونسل بنائی گئی ہیں۔
لاہور کے شہری 23 جون تک حلقہ بندیوں پر اعتراضات دائر کرسکتے ہیں، حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست 10 اگست کو جاری ہوگی۔