کراچی (نیوزڈیسک) منوڑہ کے ساحل پر ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (ڈی یو ایچ ایس) کے فائنل ایئر کے تین طلبہ ڈوب کر جاں بحق جبکہ دیگر تین بچ گئے۔یونیورسٹی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ بچ جانے والے طلبہ کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا، مزید بتایا گیا کہ 150 طلبہ پر مشتمل ایک گروپ ہاکس بے پر پکنک منانے گیا تھا، جبکہ اسی بیچ کے 15 طلبہ نے علیحدہ طور پر منوڑہ میں پکنک کی منصوبہ بندی کی تھی۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ ساحلی سیر ایک ’قدیم روایت‘ کا حصہ ہے جس میں فائنل ایئر کے طلبہ ایک ہفتہ جشن مناتے ہیں۔اطلاعات کے مطابق ایک طالب علم کے والد نے ایک ہٹ بک کرایا تھا، جہاں گروپ تفریح کے لیے گیا تھا۔یونیورسٹی انتظامیہ نے مزید کہا کہ 150 طلبہ کے لیے ہاکس بے جانے کا انتظام سیکیورٹی گارڈز اور تمام ضروری حفاظتی اقدامات کے ساتھ کیا گیا تھا۔

بیان میں وضاحت کی گئی کہ تاہم ڈاؤ میڈیکل کالج کی پرنسپل اور کالج انتظامیہ کو ان 15 طلبہ کی علیحدہ منوڑہ پکنک کے بارے میں اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ جو طلبہ ہاکس بے گئے تھے وہ بخیریت واپس کالج پہنچ گئے، جبکہ افسوسناک واقعہ منوڑہ میں پیش آیا۔

مزید بتایا گیا کہ دوپہر کے وقت ایک طاقتور لہر ایک طالب علم کو سمندر میں بہا لے گیا جبکہ دیگر اسے بچانے کے لیے آگے بڑھے تو حادثہ پیش آیا، جاں بحق طلبہ کی لاشیں کراچی کے سول ہسپتال کے مردہ خانے منتقل کر دی گئی ہیں۔

بیان کے مطابق حادثے میں زندہ بچ جانے والے تین دیگر طلبہ کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے زخمی طلبہ کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے خصوصی ہدایات جاری کر دیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع

حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔

ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔

سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی