زمبابوے کا پاکستان اور سری لنکا کے ہمراہ سہ ملکی سیریز کیلیے اسکواڈ کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
زمبابوے نے پاکستان اور سری لنکا کے ہمراہ سہ ملکی ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے اسکواڈ کا اعلان کردیا۔
تفصیلات کے مطابق سہ ملکی سیریز میں زمبابوے کے 15 رکنی اسکواڈ کی قیادت پاکستانی نژاد سکندر رضا کریں گے۔
حال ہی میں افغانستان کےخلاف ہوم سیریز کا حصہ رہنے والے اسکواڈ میں صرف ایک تبدیلی کی گئی ہے۔
فاسٹ بولر بلیسنگ مزارابانی کمر کی انجری کی وجہ سے ٹیم سے باہر ہو گئے ہیں، ان کے متبادل کے طور پر نیومین نیامہوری کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔
زمبابوے کی ٹیم اپنی مہم کا آغاز میزبان پاکستان کے خلاف 17 نومبر کو راولپنڈی میں کرے گی۔ 19 نومبر کو اسی مقام پر سری لنکا سے مقابلہ ہوگا۔
اس کے بعد زمبابوے کی ٹیم لاہور پہنچے گی جہاں 23 نومبر کو پاکستان اور 25 نومبر کو سری لنکا سے دوبارہ میچز ہوں گے۔
سہ ملکی سیریز کا فائنل 29 نومبر کو لاہور میں کھیلا جائے گا۔
زمبابوبے اسکواڈ:
سکندر رضا (کپتان)، برائن بینیٹ، ریان برل، گریم کریمر، بریڈلی ایونز، کلائیو مڈانڈے، ٹینوٹینڈا ماپوسا، ویلنگٹن مساکاڈزا، تادیواناشے مارومانی، ٹونی مونیونگا، تاشینگا میوزیکیوا، ڈیون مائرز، رچرڈ نگاراوا، نیومین نیامہوری، برینڈن ٹیلر
Zimbabwe name squad for T20I tri-series in Pakistan
Details ????https://t.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سری لنکا نومبر کو سہ ملکی
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔