طب کی دنیا میں انقلاب، 4000 میل دور بیٹھے ڈاکٹر نے مریض کی کامیاب سرجری کی ڈالی، ویڈیو جاری
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
SCOTLAND:
اسکاٹ لینڈ اور امریکہ کے سرجنز نے دنیا کی پہلی ریموٹ اسٹروک سرجری کامیابی سے مکمل کر لی ہے، جس میں 4000 میل دور بیٹھے ڈاکٹر نے مریض کا روبوٹک ٹیکنالوجی کے ذریعے آپریشن کیا۔ یہ کامیاب آپریشن برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز رپورٹ کیا گیا۔
یونیورسٹی آف ڈنڈی کی پروفیسر آئیرس گرنوالڈ نے ریموٹ تھرومبیکٹومی (خون کے لوتھڑے کو ہٹانے) کا عمل کیا جو اسٹروک کے بعد کی ایک پیچیدہ سرجری ہے۔
پروفیسر گرنوالڈ نے یہ آپریشن نائن ویلز اسپتال ڈنڈی سے کیا، جبکہ انسانی جسم یونیورسٹی کے دوسرے حصے میں رکھا گیا تھا۔
کچھ گھنٹوں بعد فلوریڈا میں مقیم نیوروسرجن ریکارڈو ہیئیل نے جیکسن ویل سے دنیا کی پہلی ٹرانس ایٹلانٹک روبوٹک سرجری کی۔ یہ آپریشن 4,000 میل (6,400 کلومیٹر) دور ڈنڈی میں ایک انسانی جسم پر کیا گیا۔
اس ٹیم نے اس کامیابی کو گیم چینجر قرار دیا اور کہا کہ اگر اسے کلینیکل استعمال کے لیے منظور کیا جاتا ہے تو یہ اسٹروک کی دیکھ بھال کے نظام میں انقلاب لا سکتا ہے خصوصاً ایسے علاقوں میں جہاں ماہر ڈاکٹروں کی کمی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ریموٹ طریقہ کار سے اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کو دور دراز علاقوں میں مریضوں کا علاج کرنے کا موقع ملے گا جس سے علاج میں تاخیر کی وجہ سے ہونے والی پیچیدگیاں کم ہو سکتی ہیں۔
پروفیسر آئیرس گرنوالڈ نے کہا کہ یہ ایسا لگا جیسے ہم مستقبل کی پہلی جھلک دیکھ رہے ہیں جو پہلے سائنس فکشن سمجھا جاتا تھا ہم نے دکھا دیا کہ اس سرجری کا ہر مرحلہ اب ممکن ہے۔
یونیورسٹی آف ڈنڈی جو عالمی سطح پر عالمی فیڈریشن فار انٹرونشنل اسٹروک ٹریٹمنٹ کے لیے تربیتی مرکز ہے برطانیہ کا واحد ادارہ ہے جہاں ڈاکٹر انسانی جسم پر ایسا آپریشن کر سکتے ہیں جس میں خون کی گردش کو مائع کے ذریعے انسانی خون کے بہاؤ کی طرح نقل کیا جاتا ہے۔
پروفیسر گرنوالڈ نے کہا کہ یہ پہلی بار تھا جب ہم نے پوری میکانکی تھرومبیکٹومی سرجری ایک اصلی انسانی جسم پر کی جس سے یہ ثابت ہوا کہ سرجری کے تمام مراحل ممکن ہیں۔
اسٹروک ایسوسی ایشن کی چیف ایگزیکٹیو جولیت بوورئی نے اس ٹرانس ایٹلانٹک آپریشن کو ایک شاندار ایجادات قرار دیا۔
انہوں نے کہا کافی عرصے تک دور دراز اور دیہی علاقوں میں رہنے والے افراد کو تھرومبیکٹومی جیسی اہم سرجری سے محروم رکھا گیا لیکن اب روبوٹک سرجری اس عدم مساوات کو دور کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
تحقیقی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کامیاب تجربے کے بعد ریموٹ اسٹروک کیئر کے عالمی سطح پر استعمال کا امکان بڑھ گیا ہے جس سے مریضوں کو طویل سفر کیے بغیر زندگی بچانے والی سرجری مل سکے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گرنوالڈ نے
پڑھیں:
آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی جزیرے قشم پر امریکی فوج کی کارروائی کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ اس نے ’اپنے دفاع‘ کے تحت حملہ کیا، جبکہ ایران نے جواباً کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
دونوں جانب سے حملوں اور جوابی کارروائیوں کے دعووں کے باوجود واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اب بھی برقرار ہے۔
امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں واقع ایران کے قشم جزیرے پر ’ اپنے دفاع‘ کے تحت حملے کیے، جبکہ ایران کی جانب سے کویت اور بحرین میں امریکی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے کویت میں تعینات امریکی افواج کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرونز کی ایک نئی لہر بھیجی گئی، تاہم یہ حملہ ناکام بنا دیا گیا۔
ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کی ذمہ دار سینٹکام کے مطابق امریکی فضائی دفاعی نظام نے متعدد ڈرونز کو مار گرایا اور اس کارروائی میں کسی امریکی اہلکار یا فوجی اثاثے کو نقصان نہیں پہنچا۔
تازہ حملوں کی یہ اطلاعات اس وقت سامنے آئیں جب ایران کے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے اعلان کیا کہ قشم جزیرے پر رات گئے امریکی حملے کے جواب میں کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
سینٹکام نے بدھ کی صبح جاری بیان میں کہا تھا کہ اس نے قشم جزیرے پر واقع ایک ایرانی زمینی کنٹرول اسٹیشن پر دفاعی نوعیت کی کارروائی کی۔
دوسری جانب امریکی فوج نے پاسدارانِ انقلاب کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر اور خطے میں واقع ایک امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔
ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں سینٹکام نے کہا کہ پاسدارانِ انقلاب کے دعوے حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔
بیان میں کہا گیا، ’امریکی افواج کے خلاف ایران کے تمام حملے ناکام رہے۔ امریکی فوج ہر وقت چوکس ہے اور کسی بھی بلاجواز ایرانی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔‘
ادھر ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے پاسدارانِ انقلاب کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان حالیہ فوجی جھڑپوں کی تفصیلات جاری کی ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں اس کے انجن روم کو نقصان پہنچا۔
ایرانی فورس کے مطابق اس کے جواب میں ایک امریکی اسرائیلی جہاز پر بحری میزائلوں سے حملہ کیا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس کے بعد امریکی افواج نے قشم جزیرے کے جنوب میں واقع پاسدارانِ انقلاب کے ایک مواصلاتی ٹاور کو نشانہ بنایا۔
پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ ہے کہ اس کے بعد اس نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے ایک امریکی فضائی اڈے، امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر اور خطے کے ایک ملک میں موجود امریکی ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنایا۔
دوسری جانب امریکی فوج نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے قشم جزیرے پر دفاعی نوعیت کی کارروائی کی اور ساتھ ہی متعدد ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کیا۔
سینٹکام کے مطابق ایران نے خطے کے پڑوسی ممالک کی جانب کئی بیلسٹک میزائل داغے، تاہم کوئی بھی اپنے ہدف تک نہ پہنچ سکا۔
امریکی بیان میں کہا گیا کہ کویت کی جانب فائر کیے گئے دو ایرانی میزائل راستے ہی میں گر گئے یا ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے، جبکہ بحرین کی طرف داغے گئے تین میزائلوں کو امریکی اور بحرینی فضائی دفاعی نظام نے فوری طور پر تباہ کر دیا۔
واضح رہے کہ بحرین اور کویت میں حالیہ دنوں فضائی حملے کے خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں