سوشل میڈیا انفلوئنسر اور ٹی وی میزبان وقار ذکا کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے وزیرِاعظم بننا چاہتے ہیں، اور وہ ٹیکنالوجی موومنٹ پاکستان (ٹی ایم پی) کے پلیٹ فارم سے 5 سال بعد انتخابات میں حصہ لے کر پارلیمنٹ تک پہنچنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ2029 میں الیکشن ضرور لڑنا ہے اور وزیراعظم بننے کی کوشش کریں گے ورنہ اپوزیشن میں بیٹھنے کی کوشش ہے، ان کا کہنا تھا کہ ہمارا کسی جماعت سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔

Pakistani tech-entrepreneur Waqar Zaka says he wants to become the prime minister of Pakistan, will stand in elections in 5 years from the platform of Technology Movement Pakistan (TMP) to reach the Parliament @ZakaWaqar pic.

twitter.com/NB6I7hvzW6

— Murtaza Ali Shah (@MurtazaViews) November 5, 2025


انہوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے وابستہ سابق رہنماؤں اور کارکنوں کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ ٹیکنالوجی موومنٹ پاکستان میں شامل ہوں، کیونکہ ان کی جماعت کا مقصد مثبت سیاست کو فروغ دینا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری سیاسی جماعت کا ایک ہی مقصد ہے کہ نہ ہم نے کسی کی برائی کرنی ہے، نہ جگت بازی کرنی ہے اور ثابت کرنا ہے کہ ٹیکس کے پیسوں سےٹی وی پر بیٹھ کر جگت بازی نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ایم این اے اور ایم پی اے کا کام پالیسی بنانا ہے سڑک بنانا نہیں تو جتنے بھی نوجوان ہیں انہیں اس جماعت میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ وقار ذکا کے مطابق الیکشن لڑنے کے لیے 174 ملین ڈالر کی رقم ہونی چاہیے، ہر ایک سیٹ جیتنے کے لیے ایک ملین ڈالر ہونا چاہیے تو ان پیسوں کے لیے ہمارے پاس ابھی لوگ جمع نہیں ہوئے۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ پاکستان میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے بغیر اقتدار میں آنا مشکل کام ہے تو جواباً وقار ذکا کا کہنا تھا کہ ان کے بغیر تو آنے کی کوشش بھی نہیں کرنی چاہیئے۔ جب ملک ڈیزائن ہی ایسے ہوا ہے تو آپ نے پنگا کیوں لینا ہے۔ اگر وہ ہمیں کہیں گے آپ ہمیں سوٹ ایبل نہیں لگتے تو ہم الیکشن نہیں لڑیں گے۔ ہم آرمی کے ساتھ ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کہنا تھا کہ نے کی کوشش وقار ذکا کا کہنا

پڑھیں:

دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری

گلگت: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں. امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں. جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں. میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں. گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں،  سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے.

 قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ انہیں کون سمجھائے کہ بھٹو کے 70ء کے دور میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں سے پچاس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہاں ایک پروفیسر یہ کہہ کر خوش ہورہا ہے کہ یہاں سو میگا واٹ بجلی دینا میرے داہنے ہاتھ کا کام ہے، اگر داہنے ہاتھ کا کام ہے تو کیا کیوں نہیں؟ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے اپنی بجلی پیدا کریں گے اور اسلام کو فروخت کریں گے.پروفیسر کو فروخت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ