مودی حکومت مشکل میں؟ کانگریس کا دہلی کار دھماکے کی تحقیقات پر عدم اعتماد کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
نئی دہلی: بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے دہلی کار دھماکے کی تحقیقات کے طریقہ کار پر مودی حکومت سے سخت سوالات اٹھا دیے ہیں۔
کانگریس کے رکن اسمبلی ایچ ڈی راگناتھ نے کہا کہ سی این جی سلنڈر دھماکے کے مقام پر وزیر داخلہ کا فوری دورہ غیر معمولی تھا، جس نے معاملے کو مزید مشکوک بنا دیا ہے۔
راگناتھ کے مطابق امونیم نائٹریٹ کی باقیات کی تحقیقات درست طریقے سے نہیں کی گئیں کیونکہ واقعے کی جگہ کو سیل نہیں کیا گیا، جس سے شواہد متاثر ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے سوال کیا کہ جب دہلی میں سی سی ٹی وی نگرانی کا مضبوط نظام موجود ہے تو کار کے بارے میں معلومات کئی گھنٹے بعد کیوں جاری کی گئیں؟
کانگریس رہنما نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ واقعے کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات یقینی بنائے اور حقیقت عوام کے سامنے لائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
بالی وڈ اداکارہ روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر ممبئی میں چوری کی بڑی واردات سامنے آئی ہے جس میں تقریباً 25 لاکھ روپے مالیت کے زیورات اور قیمتی گھڑیاں چوری کرلی گئیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ ممبئی کے علاقے جوہو میں پیش آیا، جہاں روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر سے قیمتی سامان اس وقت غائب پایا گیا جب اہل خانہ نے لاکر چیک کیا۔ لاکر کھولنے پر زیورات اور گھڑیاں موجود نہ ہونے کا انکشاف ہوا، جس کے بعد فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی گئی۔
پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ تقریباً 25 لاکھ روپے مالیت کے زیورات اور گھڑیاں چوری ہوئی ہیں۔ معاملے کی سنگینی کے پیش نظر تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق اس کیس میں ایک خاتون کو گرفتار کیا گیا ہے جس کا تعلق روینہ ٹنڈن کے خاندان سے ہی بتایا جا رہا ہے۔ ملزمہ کی شناخت 47 سالہ راشی چھابریا کے نام سے ہوئی ہے۔
تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مذکورہ خاتون 2020 سے اداکارہ کے گھر آ جا رہی تھی اور اس دوران اس نے گھر والوں کا اعتماد حاصل کر لیا تھا۔ وہ روینہ ٹنڈن کی والدہ کی مدد اور دیکھ بھال بھی کرتی رہی۔
پولیس نے مزید بتایا کہ گرفتار ملزمہ کے قبضے سے کچھ قیمتی گھڑیاں برآمد کر لی گئی ہیں، تاہم باقی زیورات کی بازیابی کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ مکمل ریکوری ممکن بنائی جا سکے۔